اسرائیلی فوج میں افرادی قلت کا انتباہ ایک بڑے خطرے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ حکام کے مطابق جاری جنگ کے دوران صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔
فوجی سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو اندرونی طور پر نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
مختلف محاذوں پر کمی کا سامنا
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ، لبنان، شام اور مغربی کنارے میں اہلکاروں کی کمی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ امن کے وقت بھی مزید فوجیوں کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ جنگ میں یہ مسئلہ زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ اسرائیلی فوج میں افرادی قلت کا انتباہ اسی دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔
بھرتی کے معاملے پر اختلاف
یہ مسئلہ بھرتی کے قانون سے بھی جڑا ہوا ہے۔ خاص طور پر مذہبی طبقے کی محدود شمولیت پر بحث جاری ہے۔
حکومت نے ایک مجوزہ قانون کو وقتی طور پر روک دیا تاکہ جنگ کے دوران اتحاد برقرار رکھا جا سکے۔
اپوزیشن کا سخت ردعمل
اپوزیشن رہنماؤں نے اس صورتحال پر شدید ردعمل دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
سابق رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام شہریوں کے لیے لازمی فوجی خدمت پر غور کیا جائے۔
ریزرو فورسز پر بڑھتا دباؤ
ماہرین کے مطابق ریزرو اہلکاروں پر انحصار حد سے بڑھ رہا ہے۔ اسرائیلی فوج میں افرادی قلت کا انتباہ اس بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔


