حوثیوں کی ایران جنگ کشیدگی پر وارننگ نے مشرق وسطیٰ میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ یمنی گروہ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ پھیلی تو براہِ راست کارروائی کی جائے گی۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران کے حامی حوثیوں نے کہا ہے کہ وہ مکمل طور پر تیار ہیں۔ اگر ایران کے خلاف کوئی نیا عسکری اتحاد بنا یا بحیرہ احمر کو استعمال کیا گیا تو فوری ردعمل دیا جائے گا۔
حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ٹی وی خطاب میں کہا کہ ان کی انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف کشیدگی بڑھی تو جواب ضرور دیا جائے گا۔ تاہم کارروائی کی نوعیت کے بارے میں تفصیل نہیں دی گئی۔
ترجمان نے یہ بھی کہا کہ بحیرہ احمر کو ایران یا کسی بھی مسلم ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے یمن کے خلاف مبینہ ناکہ بندی پر بھی خبردار کیا۔
یحییٰ سریع نے امریکا اور اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ ایران، فلسطین، لبنان اور عراق پر حملے فوری بند کیے جائیں۔
ماہرین کے مطابق حوثیوں کے پاس یمن سے باہر اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ وہ اہم بحری راستوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ حوثی 2014 سے صنعاء اور شمال مغربی علاقوں پر قابض ہیں۔ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے بعد انہوں نے بحیرہ احمر میں جہازوں اور اسرائیل پر حملے کیے۔
انہوں نے ان حملوں کو فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی قرار دیا تھا۔ اس کے جواب میں امریکا اور اسرائیل نے یمن میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔
مئی میں امریکا اور حوثیوں کے درمیان جنگ بندی بھی ہوئی تھی۔ جس کے بعد امریکی جہازوں پر حملے روک دیے گئے تھے۔
بعد ازاں غزہ جنگ بندی کے بعد اسرائیل سے منسلک جہازوں پر حملے بھی بند ہو گئے تھے۔ تاہم حوثیوں کی ایران جنگ کشیدگی پر نئی وارننگ سے حالات دوبارہ کشیدہ ہو سکتے ہیں۔


