مشرق وسطیٰ میں جنگ میں شدت اس وقت مزید بڑھ گئی ہے جب نئے حملوں اور فوجی تیاریوں نے بڑے تصادم کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔
یمن کے حوثی گروپ نے اسرائیل پر میزائل حملے کیے۔ یہ موجودہ جنگ شروع ہونے کے بعد ان کا پہلا براہ راست حملہ ہے۔
امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔ ہزاروں میرینز پہلے ہی پہنچ چکے ہیں جبکہ مزید فوجی بھی بھیجے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکا ایران میں ممکنہ زمینی کارروائی کے منصوبوں پر غور کر رہا ہے۔ تاہم ابھی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
یہ جنگ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہوئی تھی۔ اب یہ کئی ممالک تک پھیل چکی ہے اور عالمی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی تعلیمی اداروں پر حملے جاری رہے تو خطے میں امریکی اور اسرائیلی جامعات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ادھر اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں میں حملے جاری رکھے ہیں۔ ان حملوں میں ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
لبنان میں بھی اسرائیلی کارروائیوں کے دوران صحافیوں اور ایک فوجی کی ہلاکت کی خبر ہے، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایران نے خلیجی خطے میں بھی مختلف مقامات پر حملے کیے ہیں، جن میں سعودی عرب اور عراق شامل ہیں۔
حوثیوں کے حملوں کے بعد عالمی تجارتی راستے بھی خطرے میں آ گئے ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز جہاں سے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور پاکستان اہم مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر زمینی جنگ شروع ہوئی تو صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔


