Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

ایران پر امریکی زمینی حملے کیلئے دس لاکھ فوج درکار، برطانوی تجزیہ

ایران پر امریکی زمینی حملہ

ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران پر امریکی زمینی حملہ کامیاب بنانے کیلئے تقریباً دس لاکھ فوجیوں کی ضرورت ہوگی۔

ماہرین کے مطابق محدود تعداد میں فوج بھیجنا اس مقصد کیلئے کافی نہیں ہوگا۔

یہ تجزیہ ایک برطانوی اخبار میں شائع ہوا۔ دفاعی ماہر سیم کیلی نے کہا کہ ایران ایک بڑا اور مضبوط ملک ہے جس کی فوجی طاقت بھی کافی زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کی جنگوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسے ممالک میں محدود زمینی کارروائیاں اکثر ناکام ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں مزید دس ہزار فوجی بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔

یہ فوجی پہلے سے موجود آٹھ ہزار امریکی فوجیوں کے ساتھ شامل ہوں گے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ تعداد کسی بڑی کامیابی کیلئے ناکافی ہے۔

رپورٹ میں عراق اور افغانستان کی جنگوں کی مثال بھی دی گئی۔ عراق میں بڑی تعداد میں فوج تعینات ہونے کے باوجود مکمل استحکام حاصل نہ ہو سکا۔

اسی طرح افغانستان میں بھی ہزاروں فوجیوں کی موجودگی کے باوجود حالات مکمل قابو میں نہ آ سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا رقبہ، آبادی اور فوجی نظام اسے ایک مشکل ہدف بناتے ہیں۔

ایران کے پاس پاسداران انقلاب، باقاعدہ فوج اور بسیج ملیشیا موجود ہے جو مزاحمت کو مزید مضبوط بناتی ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ ابتدائی حملوں میں کچھ اہداف حاصل ہو سکتے ہیں، لیکن بعد میں شدید مزاحمت کا سامنا ہوگا۔

گوریلا جنگ اور جدید ڈرون حملے جنگ کو طویل اور مہنگا بنا سکتے ہیں۔

برطانوی فوج کے سابق افسران نے بھی کہا کہ اگر جنگ کا مقصد واضح نہ ہو تو ناکامی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران کے خلاف بڑی زمینی جنگ عالمی سطح پر سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں