آبنائے ہرمز بحران نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
یہ کشیدگی امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے تنازع کے بعد سامنے آئی۔
حملے روکنا کیوں مشکل ہے
خطے کی جغرافیائی اہمیت اس بحران کو پیچیدہ بناتی ہے۔
ایران خلیج فارس کے قریب علاقوں پر اثر رکھتا ہے۔
اسی وجہ سے ڈرون جیسے سستے ہتھیار استعمال کر کے جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
فوجی کارروائی کے تقاضے
آبنائے کو محفوظ بنانے کے لیے دو مرحلے ضروری ہیں۔
پہلا مرحلہ ایران کی حملہ کرنے کی صلاحیت کم کرنا ہے۔
دوسرا مرحلہ جہاز رانی پر اعتماد بحال کرنا ہے۔
امریکہ کی تاخیر کی چار بڑی وجوہات
پہلی وجہ یہ ہے کہ امریکی وسائل پہلے ہی دیگر مقامات پر استعمال ہو رہے ہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ صرف سمندر نہیں بلکہ اردگرد زمین کو بھی محفوظ کرنا ہوگا۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ بحری جہازوں کی بڑی تعداد درکار ہوگی۔
چوتھی وجہ یہ ہے کہ امریکی اہلکاروں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
بارودی سرنگوں کا خطرہ
بارودی سرنگوں کی موجودگی صورتحال کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔
انہیں صاف کرنے میں کئی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔
ڈرون حملے بڑا چیلنج
ایران کے ڈرون حملے روکنا آسان نہیں۔
یہ کہیں سے بھی لانچ کیے جا سکتے ہیں۔
امریکہ کی ترجیحات
امریکہ کی توجہ ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام پر ہے۔
اسی لیے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر محفوظ بنانا ترجیح نہیں۔
نتیجہ
آبنائے ہرمز بحران عالمی معیشت کے لیے اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
فوری فوجی کارروائی کے بجائے امریکہ محتاط حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔


