Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، ایران کی امریکی حملے کی وارننگ سے عالمی تشویش

تیل کی قیمتوں میں اضافہ

تیل کی قیمتوں میں اضافہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب ایران نے ممکنہ امریکی حملے سے خبردار کیا۔

برینٹ خام تیل کی قیمت میں تین فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ قیمت 116 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر چلی گئی، جو دو ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔

ایران نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی امریکی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی حملے کا سخت جواب دیا جائے گا۔

ہفتے کے آخر میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔ ایران کے حمایت یافتہ گروہوں نے اسرائیل پر میزائل داغے جبکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں کارروائیاں بڑھا دیں۔

ایشیا کی بڑی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی گئی۔ جاپان اور جنوبی کوریا کی مارکیٹوں میں نمایاں کمی ہوئی۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ ہے۔ یہ راستہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اہم ہے۔

رپورٹس کے مطابق عالمی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ متاثر ہوا ہے۔ اس سے دنیا بھر میں توانائی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث کئی ممالک میں ایندھن مہنگا ہو گیا ہے۔ حکومتیں ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جہازوں کی آمد و رفت معمول پر نہ آئی تو قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صورتحال نہ بدلی تو ایران کے توانائی نظام کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔ ایران نے جنگ بندی کے لیے اپنی شرائط پیش کی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس بحران کے مکمل اثرات ابھی سامنے نہیں آئے۔ آنے والے مہینوں میں معاشی اعداد و شمار اس کی شدت ظاہر کریں گے۔

کچھ پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ پاکستان کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اس کے باوجود جہازوں کی تعداد معمول سے کم ہے۔ جنگ سے پہلے روزانہ 100 سے زائد جہاز گزرتے تھے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں