Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

پاکستان نے 2600ارب روپے کاقرضہ قبل از وقت اداکردیا

اسلام آباد (کامرس ڈیسک) پاکستان نے ایک سال سے بھی کم عرصے میں مرکزی اور کمرشل بینکوں کو 2 ہزار 600 ارب روپے (9.2 ارب ڈالر) کا مقامی قرضہ واپس کر دیا ہے۔ مشیرِ خزانہ خرم شہزاد نے اتوار کو اس اقدام کو “ریکارڈ کامیابی” اور مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری کی بڑی علامت قرار دیا۔

مشیر کے مطابق وزارتِ خزانہ نے 30 جون کو اسٹیٹ بینک کو 500 ارب روپے قبل از وقت واپس کیے جبکہ 29 اگست کو مزید 1,133 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔ اس طرح رواں مالی سال کے دوران اسٹیٹ بینک کو 1,633 ارب روپے کی ادائیگی ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ 1,000 ارب روپے کا قرضہ کمرشل مارکیٹ سے بھی واپس کیا گیا، جو ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی پیشگی ادائیگی ہے۔

مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 تک پاکستان کا مجموعی اندرونی قرضہ 51 ہزار 518 ارب روپے تھا۔ خرم شہزاد نے بتایا کہ حکومت نے اسٹیٹ بینک کا قرضہ 2029 کی میچورٹی سے کئی سال پہلے ہی 5.5 ٹریلین روپے سے کم کر کے 3.8 ٹریلین روپے کر دیا ہے، جو تقریباً 30 فیصد کمی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ماضی کے قرضوں پر انحصار کرنے والی پالیسیوں سے واضح انحراف ہے، جہاں قرضوں پر انحصار مالیاتی گنجائش کو ختم کر دیتا اور خطرات بڑھا دیتا تھا۔ اس فیصلے سے نہ صرف 2029 میں قرض کی ری فنانسنگ کا دباؤ کم ہوا ہے بلکہ ترقیاتی اخراجات کے لیے مزید وسائل بھی دستیاب ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقامی قرضوں کی اوسط میچورٹی 2.7 سال سے بڑھ کر 3.8 سال تک پہنچ گئی ہے، جو ملکی تاریخ میں ایک سال کے اندر سب سے بڑی بہتری ہے اور یہ آئی ایم ایف کے مقرر کردہ ہدف سے بھی آگے ہے۔

مشیر کے مطابق شرحِ سود میں کمی اور قبل از وقت ادائیگیوں سے حکومت نے مالی سال 2025 میں ٹیکس دہندگان کو 800 ارب روپے سے زائد کی بچت فراہم کی ہے۔

خرم شہزاد نے کہا کہ یہ قدم ’’ذمہ دار، دور اندیش مالیاتی حکمرانی‘‘ کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق غیر ضروری قرض لینے کے پرانے چکر کو توڑ کر بروقت ادائیگیوں پر توجہ دینے سے پاکستان نہ صرف اپنی ساکھ بحال کر رہا ہے بلکہ ایک مضبوط اور پائیدار معاشی مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:این ڈی ایم اے نے آزاد کشمیر میں شدید بارش کا الرٹ جاری کردیا

یہ بھی پڑھیں