مشرقِ وسطیٰ (Middle East)میں جاری کشیدگی اور اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے یورپی آٹو مارکیٹ پر واضح اثر ڈالا ہے، جہاں صارفین بڑی تعداد میں الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
یورپی آٹوموبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن European Automobile Manufacturers Association کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں یورپی یونین میں نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن 12.5 فیصد اضافے کے ساتھ 1.16 ملین تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی مارکیٹ میں 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ابتدائی مہینوں کی سست روی کے بعد ایک مضبوط بحالی سمجھی جا رہی ہے۔ اس دوران سب سے زیادہ ترقی مکمل الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں دیکھی گئی، جن کی فروخت میں تقریباً 49 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں بھی 20 فیصد تک بڑھیں۔
مارکیٹ شیئر کے اعتبار سے ہائبرڈ گاڑیاں سب سے زیادہ مقبول رہیں، جو مجموعی فروخت کا تقریباً 37 فیصد حصہ بناتی ہیں، جبکہ مکمل الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 19 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے۔ اس کے برعکس روایتی پیٹرول گاڑیوں کی مانگ میں کمی دیکھی گئی اور ان کا حصہ 28 فیصد سے کم ہو کر 23 فیصد رہ گیا۔
صنعتی ماہرین کے مطابق صارفین کی یہ تبدیلی توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ماحولیاتی خدشات دونوں کا نتیجہ ہے۔ اٹلی، فرانس اور جرمنی میں الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ بیلجیئم اور نیدرلینڈز میں صورتحال نسبتاً کمزور رہی۔
مزیدپڑھیں:ٹرمپ کایوٹرن ،امریکی وفد کو پاکستان جانے سے روک دیا
کمپنیوں کی کارکردگی میں Volkswagen Group 26.4 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ سرِفہرست رہا، جبکہ Stellantis کے برانڈز جیسے فیاٹ، سٹرون اور اوپل کی فروخت میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
اسی طرح Tesla کی فروخت میں بھی تقریباً 60 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو پچھلے سال کی کمی کے بعد ایک نمایاں بحالی تصور کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں اسی طرح بلند رہیں تو یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی طرف یہ رجحان مزید تیز ہو سکتا ہے، اور آنے والے برسوں میں آٹو انڈسٹری کا ڈھانچہ بڑی حد تک تبدیل ہونے کا امکان ہے۔

