Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

بجٹ 27-2026: الیکٹرک گاڑیوں موٹر سائیکلوں اور رکشوں پر ٹیکس میں رعایت

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب (Aurangzeb)نے وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے آٹو موبائل شعبے کے لیے اہم اعلانات کیے ہیں۔ ان مین سے اہم ترین الیکٹرک آٹو موبائل سیکٹر کی حوصلہ افزائی کے اقدامات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آٹو سیکٹر پاکستان کی معیشت کے اہم ترین شعبوں میں شامل ہے اور گزشتہ ایک دہائی کے دوران متعارف کرائی گئی پالیسیوں نے اس صنعت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

وزیر خزانہ کنے بتایا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ملک میں اوریجنل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایم ایس ) اور اسمبلرز کی تعداد بڑھ کر 118 ہو چکی ہے، جن میں ٹریکٹر، موٹر سائیکل، مسافر گاڑیوں اور کمرشل گاڑیوں کے مینوفیکچررز شامل ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران آٹو سیکٹر میں نئے مینوفیکچرنگ پلانٹس کے قیام اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر نمایاں سرمایہ کاری کی گئی، جس سے نہ صرف صنعت میں مسابقت میں اضافہ ہوا بلکہ شعبے کی جدید خطوط پر ترقی اور ماڈرنائزیشن بھی ممکن ہوئی۔

وزیرخزانہ محمد اورنگ زیب نے کہا کہ آٹو موبائل صنعت کی مزید ترقی کے لیے حکومت ایک نئی آٹو سیکٹر پالیسی پر کام کر رہی ہے۔وزیر خزانہ کے مطابق نئی آٹو سیکٹر پالیسی اس وقت وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے زیر غور ہے۔ پالیسی کی حتمی تفصیلات وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی پالیسی مقامی آٹو صنعت کے فروغ، سرمایہ کاری میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید تقویت دے گی۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا کہ حکومت نے الیکٹرک موٹر سائیکلوں، رکشوں، گاڑیوں اور بسوں کے لیے موجودہ رعایتی ٹیکس نظام کو آئندہ مالی سال کے دوران بھی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گی تاکہ ایندھن کے درآمدی بل میں کمی اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔اورنگ زیب نے بتایا کہ حکومت درآمد کیے جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر بھی صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز دے رہی ہے، جس کا مقصد تجارتی اور مال برداری کے شعبے میں الیکٹرک ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ دی جانے والی ٹیکس مراعات سے انتہائی مہنگی اور لگژری الیکٹرک گاڑیاں فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسی کا مقصد عام صارفین اور مقامی صنعت کو سہولت فراہم کرنا ہے، نہ کہ مہنگے درآمدی ماڈلز کو غیر ضروری مراعات دینا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت آٹو موبائل سیکٹر کی پائیدار ترقی، مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے استعمال میں اضافے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

مزید پڑھیں۔لبنان کے جنوبی علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول

یہ بھی پڑھیں