Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

فیلڈ مارشل، پی ایل17 اور ’’بلف گیم‘‘

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے جب سے فیلڈ مارشل کا عہدہ سنبھالا ہے بھارت میں سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے، خوف و ہراس کی اس کیفیت میں اس وقت بدترین صورتحال پیدا ہو گئی کہ جب بھارت کو یہ اطلاع ملی کہ پاکستان پی ایل 15سے بھارت کے 5جدید لڑاکا طیارے گرانے کے بعد اب پی ایل 17کے حصول کے لئے چین کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس مقصد کے لئے اپنے لڑاکا طیاروں جے ایف 17تھنڈر اور جے 10 سی میں ضروری اپ گریڈیشن کر رہا ہے۔ چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات پاکستان کی دفاعی پالیسی کا سنگ بنیاد ہیں اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے اس تعلق کو جو نئی جہتیں اور نئی بلندیاں عطاء کی ہیں ان کی زیادہ تر تفصیل ابھی تک مخفی ہے اور یہی رازداری وہ بڑا خوف بن چکی ہے کہ جس کی وجہ سے بھارت پر لرزہ طاری ہے۔ اسی رازداری اور مخمصے نے حالیہ 4 روزہ جھڑپ میں بھارت کو چاروں شانے چت کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا کیونکہ بھارت سمجھتا تھا کہ چین نے پاکستان کو پی ایل 15کا ایکسپورٹ ورژن پی ایل 15 ای فراہم کیا ہے اور پاک فضائیہ کی طرف سے چین کے زیر استعمال پی ایل 15حاصل کرنے کے دعوے محض ایک بلف گیم ہیں، یاد رہے کہ پی ایل 15ای یعنی ایکسپورٹ ورژن کی رینج 145 کلومیٹر جبکہ چین کے زیر استعمال پی ایل 15کی رینج 300 کلومیٹر ہے۔
اس مخمصے نے حالیہ جھڑپ میں بھارت کو دھول چٹائی اور یہی وہ ’’بلف گیم‘‘ہے کہ جس کی وجہ سے مودی سرکار ایک بار پھر عجیب شش و پنج میں ہے، وہ پاکستان کیخلاف نئی جارحیت کا ارتکاب کرنا چاہتی ہے لیکن راولپنڈی اسلام آباد میں پاکستانی فوج کی قیادت اور میزائلوں دونوں کی ’’اپ گریڈیشن‘‘نے اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑائے ہوئے ہیں، ایک طرف افواج پاکستان کے سربراہ عاصم منیر فور اسٹار سے فائیو اسٹار جنرل بن چکے ہیں تو دوسری طرف پاکستان پی ایل 15 سے آگے بڑھ کر پی ایل 17حاصل کر رہا ہے جس کی رینج 400 کلومیٹر تک ہے۔پاک فضائیہ کے شاہینوں نے چین سے حاصل کردہ 4.5 جنریشن کے جدید لڑاکا طیارے J-10 C کے ذریعے PL-15 میزائل استعمال کرتے ہوئے بھارت کے تین رافیل، ایک سخوئی SU-30MKI اور ایک میراج 2000 طیارہ مار گرائے، اس بڑی کامیابی نے بھارت کی فضائی برتری کے دعوئوں اور بڑے دفاعی بجٹ کی وجہ سے حاصل نفسیاتی برتری کو پاش پاش کر کے رکھ دیا ہے۔ اب پاکستان چین کے ایک اور جدید ترین میزائل PL-17 کے حصول پر کام کر رہا ہے۔ یہ میزائل نہ صرف PL-15 سے کہیں زیادہ جدید ہے بلکہ اس کی رینج 400 کلومیٹر کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ PL-17 ہے کیا؟ اور موجودہ پاک بھارت کشیدگی میں پاکستان کے لئے اس کے فوری حصول کی اہمیت کیا ہے؟ کہا یہ جا رہا ہے کہ بھارت کو تو پی ایل 15نے ناک آئوٹ کرکے رکھ دیا اگر پاکستان پی ایل 17حاصل کر لیتا ہے تو بھارتی فضائیہ کا بنے گا کیا؟ اور وہاں پاک فضائیہ سے کتنے برس مزید ’’پسماندہ‘‘ہو کر رہ جائے گی؟ اس حساب کتاب نے مودی سرکار کی راتوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔پی ایل 17 کو پراجیکٹ 180 اور پی ایل 20بھی کہا جاتا ہے، یہ چین کا جدید ترین بی وی آر (Beyond Visual Range) ایئر ٹو ایئر میزائل ہے، جو انتہائی دور فاصلے پر دشمن کے ہوائی جہاز، ایواکس، فضائی ٹینکر جہاز اور دیگر فضائی اثاثوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تقریبا ً 6میٹر طویل یہ میزائل انرشیل نیویگیشن، جی پی ایس،بی ڈو اپڈیٹس، ہائی پاور AESAریڈار سیکر، اور ڈیٹا لنک سے لیس ہے جو اسے انتہائی دور سے بھی درست نشانہ لگانے کے قابل بناتے ہیں، پی ایل 17میزائل کی زیادہ سے زیادہ رفتار میک 4 سے تجاوز کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے اسے انٹرسیپٹ کرنا دنیا کے جدید ترین طیاروں کے لئے بھی بہت ہی مشکل ہے، یہ رفتار تقریباً 3,000میل فی گھنٹہ یا لگ بھگ 4,800کلومیٹر فی گھنٹہ کے برابر ہے جس کا جنوبی ایشیاء میں تاحال کوئی توڑ نہیں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں