آزاد جموں وکشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام عوامی حقوق کے حوالے سے حالیہ تحریک ریاست میں ایک خوشگوار تجربہ ہے تحریک کو پرامن اورتیر بہدف بنانے کے لیے کمیٹی کےصدر شوکت نوازمیر اور ان کی ٹیم نے جس حسن تدبر کا مظاہرہ کیا وہ لائق تحسین ہے،اسی طرح حکومت کی مذاکراتی کمیٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی صبروتحمل اورحکمت سے باہم مذاکرات سے معاملات سلجھاتے ہوئے سیاسی تدبر کا مظاہرہ کیا اورمتنازعہ صدارتی آرڈیننس واپس لےلیاجس کےحوالےسےتمام سیاسی اورعوامی حلقوں میں شدید تشویش اور تنقیدکامظاہرہ ہوا ۔پاکستان میں پرامن مظاہرین پر جس طرح گولیاں چلائی گئیں اورپوراملک بندکردیاگیا،بےتدبیری اور اناپرستی کی وجہ سےپوری دنیا میں نظام اور ادارے بےوقار ہوئے کشمیر کی اس مشق میں پاکستان کے سیاسی اور پالیسی ساز حلقوں کے سیکھنے کے لیے بہت کچھ سامان موجود ہے ۔
یہ بھی خوش آئند امر ہے کہ اس ساری مشق میں یہ واضح ہوا کہ رائے عامہ کی طاقت ہی پیچیدہ مسائل حل کرنے میں شاہ قلید ہے۔ اس تحریک میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والےلوگ شریک ہوئے۔ تمام سیاسی جماعتوں کےکارکنان اورمقامی قیادت جماعتی وابستگیوں سےبالاتر ہوکر تحریک کا حصہ رہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ہمارا نظام بانجھ ہو چکا ہےجس کے اندر عوامی مسائل اور جذبات کاادراک کرتے ہوئے اقدامی صلاحیت مفقود ہو چکی ہے،نیز ہماری سیاسی جماعتیں بھی عوامی مسائل اور مشکلات سے لاتعلق ہو چکی ہیں اور ایک ایساخلا پیدا ہوچکاہے جسے پر کرنے کے لیے ایکشن کمیٹیز اور احتجا ج کا کلچر فروغ پذیر ہےجو ہماری سیاسی قیادت اور گورننس کے نظام کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔سیاسی جماعتیں جمہوری معاشرے میں مسائل کے حل کے لیے اپنے منشور میں لائحہ عمل تجویز کرتی ہیں اور حکومت میں آنے کے بعد اس منشور پر عملدرآمد کرتی ہیں لیکن ہمارے ہاں اس کا اہتمام نہ ہونے کے برابر ہے ۔صرف جماعت اسلامی کو یہ سعادت حاصل ہے کہ وہ ہر الیکشن کے موقع پر اپنا منشور پیش کرتی رہی ہے ۔یہ بھی ایک المیہ ہے ایک دو کے علاوہ ریاستی جماعتوں کا کردار ختم ہو چکا۔ اقتدار کی دوڑ میں شامل تین بڑی جماعتوں کو نہ تنظیمی عہدیدار منتخب کرنے کا اختیار ہے اورنہ حکومت سازی کا ،لابنگ کے ذریعے عہدے حاصل کیےجاتے ہیں جنہیں قائم رکھنے کے لیے عوام کی خوشنودی کی بجائے اپنے مرکزی قائدین کو خوش کرتےہوئے ان کے چشم آبرو کا منتظر رہنا پڑتا ہے ۔یوں حقیقی نمائندہ قیادت منتخب نہیں ہو پاتی ۔
بدقسمتی سےاس میں عوام بھی برابر کےقصور وار ہیں جو جماعتوں کے منشور،امیدواران کی کارکردگی اور کرداردیکھے بغیر محض اس بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں کہ اسلام آباد میں کس کی حکومت ہے۔مزید جوڑتوڑ اور پسندیدہ افرادکے حق میں ماحول بنانے کے لیےحکومتی ادارے بھی بھرپور مداخلت کرتے ہیں جو گزرتے وقت کےساتھ بڑھتی جا رہی ہے کشمیری پاکستان سے محبت رکھتے ہیں کیونکہ ان کے اسلاف نے آزادی کشمیر اور تکمیل پاکستان کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں شہداء کے جنازے پاکستانی پرچموں میں ملبوس کر کے دفنائے جاتے ہیں۔بھارتی چنگل سے آزادی کی جدوجہد میں اللہ کی پاک ذات کے بعد اہل پاکستان ہی سے ان کی توقعات ہیں۔ پاکستان کی بھارت کے ساتھ ہونےوالی جنگوں اور باہم دشمنی کی بنیاد بھی مسئلہ کشمیر ہی ہے ۔گزشتہ چار دہائیوں میں پاکستانی حکمرانوں کی نااہلی اور سیاسی عدم استحکام کے باوجود ریاست پاکستان اور عوام اہل کشمیر کی پشت پر کھڑے ہیں ۔اسی جرم کی پاداش میں بھارت نے عالمی استعماری قوتوں کی سازش سے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے شکنجے میں جکڑ دیاجس سے پاکستان شدید مالی بحران سے دوچار ہوا ۔
علاوہ ازیں پاکستانی عوام نے اکتوبر ۵۰۰۲ء کے شدید زلزلے کی قیامت صغریٰ کے موقع پر جس ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے جسے اہل کشمیر کی نسلیں ہمیشہ یاد رکھیں گی،بلاشبہ کشمیر کابچہ بچہ ان قربانیو ں کامعترف اورقدردان ہونے کےباوجود حکومت پاکستان کی چند پالیسیوں سےنالاں ہے۔ ان وجوہ کا جائزہ لیتے ہوئے ان کا تدارک کرنا چاہیے۔نوجوانوں کا بڑا ردعمل بیس کیمپ کے فرسودہ نظام کےحوالےسےہے جسے ان کے نزدیک اسلام آباد کی حکومت اور ادارے مسلط کرتےہیں جس کی عدم فعالیت اور بے تدبیریاں بد زنی پیدا کرتی ہیں ۔پھر تحریک آزادی میں بیس کیمپ کا مجہول کردار بھی اس ردعمل میں مزید اضافہ کرتاہے ۔بالخصوص اگست ۹۱۰۲ء کے مودی کے اقدامات کے تدارک کے لیے حکومت پاکستان کی طرف سے موثرحکمت عملی کا فقدان باہم بےاعتمادی کا باعث بنا ۔اس وقت کے سپہ سالار کے حوالے سے صحافیوں کے انکشافات سے آر اور پار کشمیر یوں میں یہ تاثر گہرا ہوا کہ یہ ساراعمل ملی بھگت سے ہوا ۔بے اعتمادی کی اس فضا سے نکلنے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔
بدقسمتی سے محدودسطح پر ایک ایسا عنصر بھی موجود ہے جو ہر مسئلے پر پاکستان کو مطعون کرتا رہتا ہے ۔اس سارے عمل میں کچھ اسی طرح کے منفی عناصر نے پاکستان بیزار فضا قائم کرنے کی کوشش کی جس کا ایکشن کمیٹی کی قیادت نے بروقت نوٹس لے کر تدارک کیا۔ ہمیں یادرکھناچاہیے کہ آزادخطہ ہمارےاسلاف نےبڑی قربانیوں اور تاریخی جدوجہد کے نتیجےمیں حاصل کیا ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ اس جدوجہد میں پاکستانی رضا کار مجاہدین اور پا ک فوج کابھی اہم کردار ہے ۔پانڈو کے محاذ کو بچاتے ہوئے میجر سرور شہید بہادری سے لڑے اور نشان حیدر کے حقدار ٹھہرے ۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چپے چپے پرشہداء کا خون نچھاورہوا۔ پاک بھارت جنگوں میں ہزاروں شہادتیں ہوئیں ۔گزشتہ چار دہائیوں میں پاکستان کے ہر ضلعے اور ہر خاندان کے نوجوان ہزاروں کی تعداد میں کشمیریوں کے شانہ بشانہ رہے اوردس ہزارسے زائد نے جانوں کے نذرانے پیش کیے ۔ مقبوضہ ریاست کے شہدا کے ہر قبرستان میں ان کی نمائندگی موجودہے جو تحریک مزاحمت کی تقویت کا ذریعہ ہیں ۔جذباتی نعرےبازی میں پاکستان بیزار ماحول نہ کشمیریوں کے لیے سودمند ہے اور نہ ہمارے کاز ہی کے لیے ۔خودمختاری میں بظاہر بڑی جازبیت ہے لیکن کشمیری پاکستان کے ساتھ ہی خود مختار اور باوقار رہ سکتے ہیں ۔شیخ عبداللہ نے یہ نعرہ لگا کر کشمیر کو بھارت کی جھولی میں ڈال دیا ۔آج فاروق عبداللہ برملا اظہارکرنےپرمجبور ہےکہ میرے والد نے قائداعظم ؒکے مشورے کو ٹھکرا کر تاریخی غلطی کی ۔یہ بھی ایک حقیقت ہےکہ پاکستان کے قیام اور اس کی پشتیبانی ہی کے نتیجے میں ایک تہائی ریاست آزاد ہوئی۔
آزادی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہےجوقومیں اسلاف کی کمائی کی ناقدری کریں،وہ اللہ کی نعمت سے محروم کردی جاتی ہیں ۔مہاراجہ کے غلامی کے نظام میں جو تھوڑا بہت انفرا سٹرکچر اور تعلیمی ادارے تھےوہ سرینگر اور جموں تک محدود تھے۔ پورے آزاد خطے میں صرف ایک انٹر کالج اور چند سکولز تھے ۔پونچھ ریاست میں ایک ہائی سکول تھا۔ چالیس کی دہائی میں عوامی تحریک کے نتیجے میں چند مزید ادارے دیے گئے۔ باغ اور پونچھ سے راولپنڈی جانے کے لیے کوہالہ اور کہوٹہ تک پیدل سفر کرنا پڑتا تھا ۔ مہاراجہ کی خچروں کے لیے گھاس کٹائی کی بیگار لی جاتی تھی ۔ناروا ٹیکسوں کا بوجھ الگ تھا۔رسل ورسائل کے ذرائع نہ ہونے کے برابر تھے ۔پنڈی سرینگر واحد پختہ سڑک تھی لیکن آزادی کے بعد نظام ریاست استوارہوا جس میں بے پنا ہ اصلاح احوال کی گنجائش موجود ہے ۔
تعلیمی اداروں اوریونیرسٹیزکی تعداد مقبوضہ کشمیرسےزیادہ ہے،سڑکیں،بجلی اور سوشل انفراسٹرکچربہت بہتر ہے۔ پانچ ہزار کلومیٹر سے زائد پختہ سڑکیں اور بارہ ہزار کلو میٹر رابطہ سڑکیں موجود ہیں ۔بھارتی اعدادو شمار کے مطابق مقبوضہ ریاست کی فی کس آمدنی کم ترین سطح پر ہے ۔اس لیے کہ وہاں کی زراعت اور کاروباری مواقع بھارت نے تباہ کردئیے ہیں ۔ مجاہدین اورحریت پسندوں کی چراہ گاہیں اوراہم زرعی رقبے ضبط کیےجارہے ہیں ۔کشمیری نوجوانوں کو پاسپورٹ تک کی بنیادی سہولت سے محروم رکھاگیا ہے ۔پاکستانی اداروں کے ڈگری ہولڈرز کی ڈگریاں ضبط کردی گئی ہیں ۔ پوری مقبوضہ ریاست سے محض چند ہزار افرادہی سمندرپارجاسکےہیں ۔پاسپورٹ حاصل کرناکشمیریوں کے لیے ناممکن بنا دیاگیا ہے۔ ترکی اوریورپ میں زیر تعلیم نوجوان بھارتی پالیسی کے خلاف ایک ٹویٹ بھی کر دیں تو ان کے پاسپورٹ منسوخ کر دئیے جاتے ہیں ۔
آزاد کشمیر کے لاکھوں افراد برطانیہ،یورپ،امریکہ،مشرق وسطی اور مشرق بعید میں برسر روزگار ہیں جو خطے میں خوشحالی کا ذریعہ ہیں جس کے نتیجے میں آزادخطے کی فی کس آمدنی دیگر صوبوں سے زیادہ ہے ۔مقبوضہ کشمیر بنک میں ہزاروں نوجوان باروزگارتھے جسے مودی حکومت نےقبضہ میں لینےکےبعد سب کوفارغ کردیاہے ۔کشمیری مسلمان تو خاص ہدف ہیں لیکن ہندوستانی مسلمانوں کاجینا بھی دوبھر کردیاگیا ہے ۔بھارتی سپریم کورٹ کے جج کی رپورٹ جو سچر کمیشن کے نام سے معروف ہے،کی رو سے بھارتی مسلمانوں کی وفاقی سروسز میں نمائندگی دوفیصد سے بھی کم ہےحالانکہ آبادی کا تناسب سولہ فیصد کےقریب ہے ۔دفاعی سروسز میں تو نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ پاکستان میں کشمیری کمیونٹی گوناگوں مراعات کی حامل ہے ۔ہمارے مہاجرین قومی اسمبلی،سینیٹ،صوبائی اسمبلیوں میں موجود ہیں اورریاستی نظام کا الگ سےحصہ ہیں ۔فوج میں پنجاب،خیبر پختون خوا کے بعد آزادکشمیر کی نمائندگی ہے ۔تین اورچارستارہ جنرل کشمیر سےبھی رہےہیں اورآج بھی موجودہیں جو فارن سروسز اورکلیدی عہدوں پرفائز ہیں ۔ راولپنڈی اسلام آباد میں سنٹورس جیسی آسمان کو چھوتی عمارات اور بڑے بڑے تجارتی مراکز اور پلازے کشمیریوں کے ہیں بلکہ بقول سید علی گیلانی شہید ہم پا کستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے ۔
پاکستان برصغیر کی پوری امت مسلمہ کی مشترکہ میراث ہے ۔بدقسمتی سے پاکستان کے خود غرض سیاستدانوں اور طالع آزما جنرلز اس کی حفاظت کرنے میں نا کام رہے اور ملک دو لخت ہوگیا ۔میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہو ں اگر شیخ عبداللہ بےتدبیری نہ کرتے تو جموں کشمیر پاکستان کے سر کا تاج ہوتا اور شیخ صاحب اور چوہدری غلام عباس صاحب قائد اعظم کے پورے پاکستان کو قیادت فراہم کرتے۔یوں برصغیر کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا ۔ پاکستان جس قیادت کے بحران سے دوچار ہے اسے کشمیری ہی سنبھال سکتے ہیں اور عظیم تر امت مسلمہ کی تعمیر میں کردار ادا کرسکتے ہیں جس کاخواب ایک عظیم کشمیری سپوت علامہ اقبال نے دیکھا تھا ورنہ کہیں ایسا نہ ہوکہ
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں سامان تنگی داماں بھی تھا
بہر حال تحریک آزادی کے تناظر میں بیس کیمپ کو حقیقی بیس کیمپ بنانا اور اسلام کا حقیقی عادلانہ معاشرہ قائم کرنا ہوگاجہاں عدل اور میرٹ کی با لا دستی ہو، تعصبات اور قبیلائی ازم سے نکلنا ہو گا، شفاف اور آزادانہ انتخابات کے ذریعے سرمائے اور ایجنسیوں کے اثر سے پاک اجلے لوگوں کےانتخاب کو یقینی بناناہو گانیز آزادخطے اور گلگت بلتستان کو آئینی اور وسائل کے اعتبار سےباوسائل بنانا ہوگا ۔بلدیاتی نظام کو باوسائل اور بااختیار بنانا ہوگا ۔ لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو باروزگاربنانے کےلیےلائحہ عمل دینا ہو گا۔ حکومتی اخراجات میں کمی اور وسائل میں مزید اضافہ کرتے ہوئے تعمیر اور ترقی کے یکساں مواقع پیدا کرنا ہوں گے ۔عدالتی اور بیوروکریسی کے نظام کی اصلاح کرناہوگی تاکہ لوگوں کو بروقت انصاف ملے اوران کی عزت نفس مجروح نہ ہو ۔سفارتی ریلیف اورمزاحمت کے ہر محاذ پر کشمیریوں کی پشتیبانی کا حق ادا کرنا ہوگا نیز پاکستان میں جاری بدمزہ صورت حال کا تدارک کرنا ہو گا ۔بھارت کی مثال پیش کرنا خوشگوار عمل نہ ہے لیکن وہاں حال ہی میں انتخابات ہوئے ۔ تمام جماعتوں نےنتائج تسلیم کیے ۔سترکروڑ ووٹرز نے ووٹ ڈالےکہیں دھاندلی کا الزام نہ لگا ۔ پاکستان میں فروری کے انتخابات میں جو کھلواڑ ہوا اس کے نتیجے میں ساری دنیا میں بدنامی ہوئی فارم ۵۴ اور فارم ۷۴ کی حکومت سازی مذاق بن گئی۔گن پوائنٹ پر ممبران پارلیمنٹ سے ووٹ حاصل کرتے ہوئے اسلام عدل اور جمہوریت سے شدید بے وفائی کی گئی ۔ گزشتہ انتخابات پر بھی اعتراضات وارد ہوئے اور نظام متنازعہ رہا ۔اس سلسلے کو ختم ہونا چاہیے۔قومی قائدین اور ادارے ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے انفرادی اور اجتماعی استغفار کریں اور آئین کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا عزم کریں نیزمحض سیاسی اورسفارتی حمایت سےآگے بڑھ کر بطور فریق تحریک کشمیر کی مزاحمت کے جملہ محاذوں پر پشتیبانی کریں اور سابق سپہ سالار کے مشکوک کردار کےحوالے سےایک اعلی سطحی جوڈیشل کمیشن قائم کیاجائے۔ تمام معاملات کی چھان بین کرتے ہوئےحقائق سامنے لائےجائیں ان اقدامات کے نتیجے میں کشمیریوں کا اعتماد بحال ہوگااور پاکستان سے وابستگی پختہ تر ہوگی۔