(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ مکمل سپیکٹرم ڈیٹرنس بیان پاکستان کی فوجی پالیسی سے ہم آہنگ ہے، جو جوہری ہتھیاروں کوبھی شامل کرتاہے،پورے خطے کی آبی اور عسکری سلامتی کوخطرے میں ڈال دیاہے جبکہ پاکستان کاردِعمل ایک زخمی سناٹے کی طرح ہے جوکہہ رہاہے:’’مت کھیل میرے آنگن کے پانی سے،یہ میری رگوں میں دوڑتی زندگی ہے‘‘ ۔آخری بات یہ ہے کہ پانی کاتنازعہ انڈیااورپاکستان کیلئے وجودی خطرہ ہے،لیکن تاریخ اور جوہری توازن جنگ کو’’لاکھوں موتوں‘‘ والے منظرتک پہنچنے سے روکتے ہیں۔دونوں ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ پانی کو ’’ہتھیار‘‘ بنانے کی بجائے’’مشترکہ وسائل”‘‘کے طورپر دیکھیں،کیونکہ موسمیاتی تبدیلیاں کسی کونہیں چھوڑیں گی۔
جب دوایٹمی طاقتیںبھارت اورپاکستان کسی تنازعے کی دہلیزپرکھڑی ہوں،تویہ مسئلہ صرف دوریاستوں کے درمیان نہیں رہتا؛یہ ایک ایسا عالمی خطرہ بن جاتا ہے جو سرحدوں، براعظموں، اور نسلوں تک پھیل سکتا ہے۔ اگر خدانخواستہ ان دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑ جائے، تو اس کے اثرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں ہوں گے، بلکہ پوری انسانیت اس کی لپیٹ میں آجائے گی۔انڈیااورپاکستان کی ممکنہ ایٹمی جنگ کے دنیاپرکیااثرات مرتب ہوسکتے ہیں،کسی بھی ذی شعورپرخوف کی جھرجھری طاری ہوجاتی ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق اگردونوں ممالک ایک دوسرے پرمحدودایٹمی حملے کرتے ہیں تو ابتدائی حملوں میں12کروڑافرادسے کہیں زیادہ فوری طورپرلقمہ اجل بن سکتے ہیں۔بڑے شہر (مثلاً دہلی، کراچی،لاہور،ممبئی اوردیگردرجن شہر) صفحہ ہستی سے مٹ سکتے ہیں،جہاں لاکھوں لوگ فوری تابکاری،آگ اوردباکی لہروں سے ہلاک ہوجائیں گے۔بنیادی ڈھانچے‘ ہسپتال، سڑکیں، توانائی کے مراکز مفلوج ہوجائیں گے۔
ایٹمی دھماکوں سے پیداہونے والادھواں اور راکھ فضامیں بلندہوکرسورج کی روشنی کو روکے گا،جس سے درجہ حرارت کئی ڈگری نیچے آجائے گا،اسے نیوکلیئرونٹرکہاجاتاہے اس کے ہولناک ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار متاثرہوگی،غذائی قلت کااندیشہ ہوگا، اور بالخصوص افریقا،مشرق وسطی اورلاطینی امریکاجیسے خطے اس کے غیرمتناسب شکارہوں گے۔عالمی سطح پر خوراک کی قلت،قیمتوں میں اضافہ،اورقحط کاخدشہ ناقابل یقین حدتک بڑھ جائے گا۔
دنیاکی دوبڑی معیشتیںچین اور امریکا بھارت اورپاکستان کے حلیف یامفادیافتہ ممالک ہیں۔ جنگ ان کوبالواسطہ طورپرکھینچ سکتی ہے۔ اگرخاکم بدہن ایساہوگیاتوپھرجس قیامت کاوعدہ ہے،وہ پوراہوجائے گا۔اگرمعاملہ یہاں تک نہیں پہنچتاتواس کے باوجودان دوملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کے نتیجے میں اقوام متحدہ،نیٹو،روس،ترکی اورخلیجی ممالک پردبابڑھے گاکہ وہ کسی ایک طرف کاساتھ دیں یاثالثی کریں۔علاوہ ازیں عالمی سیاسی اوراقتصادی اثرات کی بناپرجنوبی ایشیاعالمی تجارتی روٹس(بحیرہ عرب، گوادر، ممبئی، چٹاگانگ) کامرکزہے۔جنگ ان راستوں کومعطل کرسکتی ہے،جس سے عالمی تجارت کونقصان پہنچے گا۔
ایٹمی جنگ ہوتی ہے تو پناہ گزینوں کاایسابحران پیداہوگاجس میں10کروڑسے زائد افراد بے گھرہوسکتے ہیں۔ایران،افغانستان،بنگلہ دیش، نیپال اورچین جیسے ممالک کوپناہ گزینوں کے بڑے ریلے کاسامناہوگا۔یورپ کوبھی ایک نیا پناہ گزین بحران درپیش آسکتاہے، جوپہلے ہی یوکرین،شام اورسوڈان سے متاثرہے۔
جنگ کوہندومسلم کشمکش کارنگ دینے کی کوشش کی جاسکتی ہے،جس سے بین الاقوامی سطح پراسلاموفوبیاکوتقویت ملے گی۔ عالمی میڈیا اور سیاسی ادارے اس تنازعے کونظریاتی تصادم کے طورپر بیان کرسکتے ہیں،جوبین الاقوامی ہم آہنگی کومزیدکمزور کرے گا۔یادرہے کہ یہودی نژاد ہنری کیسینجر کا’’ون ورلڈآرڈر‘‘اسی نظریہ پر ترتیب دیاگیاہے کہ گریٹراسرائیل کی ساری دنیا پرحکومت ہو گی جبکہ مسلمانوں کابھی ایمان ویقین ہے کہ دجال کے زمانے میں امام مہدی کے نزول کے بعدساری دنیامیں اسلام کی حکمرانی ہو گی اور غزوہ ہندکی پیشینگوئی بھی موجودہے۔
٭جنگ کے بعددنیامیں ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف ایک نئی اخلاقی وقانونی تحریک جنم لے سکتی ہے۔ایٹمی عدم پھیلاجیسے معاہدوں پر عملدرآمد کا دباؤ بڑھے گا۔ایٹمی طاقتوں کی شفافیت اور کنٹرول کی مانگ دنیابھرمیں زورپکڑے گی۔
٭خطے میں جنگی ذہنیت کاپھیلائو،اسلحہ کی دوڑ، اورجنوبی ایشیائی خطے میں داخلی سیاسی عدم استحکام بڑھے گا۔
٭پاکستان اوربھارت میں سول سوسائٹی، معیشت،تعلیم اورعوامی خدمات کانظام پاش پاش ہوجائے گا۔
٭ایک ممکنہ ایٹمی جنگ نہ صرف ایک جغرافیائی مسئلہ ہے،بلکہ یہ اخلاقی،انسانی اورتہذیبی بحران کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کی قیادت کوچاہیے کہ وہ عقل، تدبیر، اوربین الاقوامی مکالمے کاراستہ اختیارکریں۔
عالمی برادری،بالخصوص اوآئی سی،اقوامِ متحدہ،یورپی یونین،اورچین،کوچاہیے کہ فوری، غیرجانبداراوردیرپاثالثی کاکرداراداکریں اور مودی اوراس کے آقائوں جیسے خونخواربھیڑیوں سے دنیا کوبچانے کیلئے ایک عالمگیرتحریک چلائیں تاکہ دنیاکودرپیش خطرات اور تباہی کے کنارے سے واپس لایاجاسکے۔
مجھے یقینِ کامل ہے کہ اگران سفارشات پر فوری عملدرآمدشروع کیاجائے تودنیاکوممکنہ تباہی سے بچایاجاسکتاہے۔
٭اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں فوری قراردادبرائے ایٹمی کشیدگی میں کمی پر عملدرآمدکروایاجائے۔
٭جنوبی ایشیائی خطے کیلئے ایٹمی ہتھیاروں سے پاک عالمی زون پربات چیت کاآغازکیاجائے۔
٭پاکستان،ایران،بھارت،چین اور افغانستان کے درمیان پنج فریقی امن فورم کی تشکیل دی جائے۔
٭میڈیااورعوامی بیانیے میں نفرت اور تصادم کی زبان کے خلاف عالمی ضابطہ اخلاق نافذ کیا جائے۔