میاں نواز شریف ڈیڑھ سال بعد جب اپنی بیٹی مریم نواز کے ساتھ میڈیا پر سامنے آئے تو قوم کی توقع کچھ اور تھی۔ لوگ سمجھ رہےتھےکہ وہ پھر سے جمہوریت، آئین کی بالادستی اور ووٹ کو عزت دو کے اپنے پرانے بیانیے میں نئی جان ڈالیں گے، کیونکہ اس وقت طاقت کے تمام دروازے عوام، جمہوریت، پارلیمنٹ اور آزاد عدلیہ پر بند کیےجا رہے ہیں مگر میاں صاحب ایک ایسے ضمنی انتخاب میں کامیابی کی مبارک باد دینے نمودار ہوئے، جس میں جیت امیدواروں نے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن نے دی وہ بھی شیر کو پنجرے میں بند کر کے چند نشستیں طشتری میں رکھ کر۔
افسوس یہ کہ انہوں نے اس موقع پر عمران خان پر بھی بھرپور حملے کیے جبکہ عمران خان کی بہنیں اسے ملنے کے لیے دربدر پھر رہی ہیں اور ان کے بچے اپنے باپ سے فون پر بات نہیں کر سکتے، جو بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مانا کہ نواز شریف بھی جیل میں رہے، مگر ان کے دور میں ہی بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر انہیں رہائی ملی، اور بیماری کے باعث انہیں عمران خان کی حکومت نے لندن جانے کی اجازت دی۔
میں خود 1999 سے نواز شریف کے حق میں لکھتا آیا ہوں جب جنرل پرویز مشرف نے ان کی حکومت پر شب خون مارا تھا مگر تاریخ کا ورق پلٹ کر آج دیکھیں تو سوال اٹھتا ہے اگر عمران خان کسی آمر کا پروجیکٹ تھے تو پھر تاریخ آپ کے بارے میں کیا لکھتی ہے؟
پاکستان کی سیاست میں ایک ہی کہانی بار بار دہرائی گئی ہے، اور نواز شریف اس تکرار کا سب سے نمایاں کردار رہے ہیں۔ ان کی سیاسی عمارت نہ عوامی جدوجہد سے بنی نہ اصولی سیاست سے، بلکہ انہی طاقتور دروازوں سے بنی جن کی چابی بھی انہی کے پاس ہوتی ہے۔ آغاز جنرل غلام جیلانی کے پروجیکٹ سے ہوا، جنہوں نے انہیں جنرل ضیا سے ملوایا۔ ضیاالحق کو بھی وہی خصوصیات دکھائی دیں جومقتدرہ ہمیشہ اپنےتابع اورلچکدار سیاسی کارکن میں تلاش کرتی ہے۔
یوں وہ وزارتوں سے ہوتے ہوئے پنجاب کے طاقتور ترین منصب وزیراعلی تک پہنچے یہ سب عوامی مینڈیٹ کا نتیجہ نہیں بلکہ مقتدرہ کے انجینئرڈ پلان کا حصہ تھا۔ ضیا دور، 1985 کے ریفرنڈم، پھر 1988 میں بے نظیر حکومت کے خاتمے تک، ہر جگہ وہ اسی طاقت کے سائے میں آگے بڑھے۔ آئی جے آئی کی تشکیل سے لے کر وزیراعظم بنتے اور برطرف ہوتے رہنے تک، ان کے سیاسی سفر میں تضادات کی بھرمار ہے۔
نواز شریف کی اپنی غلطیاں بھی کم نہیں تھیں۔ میڈیا کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرنا، عدلیہ میں پسندیدہ ججوں کو آگے لانا، ہارس ٹریڈنگ کو باقاعدہ سیاسی ہتھیار بنانا، بے نظیر بھٹو کے خلاف اشتہاری مہم چلانایہ سب سیاسی تاریخ کے وہ داغ ہیں جو آج بھی برقرار ہیں۔ یوسف رضاگیلانی کےخلاف کالا کوٹ پہن کر عدالت جانا ہو یا میموگیٹ اسکینڈل میں کردار یہ سب اصول نہیں بلکہ موقع پرستی تھی۔
جب جنرل مشرف سےٹکرلی اور نتیجہ جلاوطنی نکلا تو وہی نواز شریف، جو روزانہ سول بالادستی کے نعرےلگاتے تھے، ایک رات خاموشی سے ڈیل کرکے سعودی عرب روانہ ہوگئے۔ اگر یہ کمپرومائز نہیں تھا تو پھر کیا تھا؟
ان کی سیاست ہمیشہ دو انتہائوں میں جھولتی رہی کبھی فوج کے مکمل تابع،کبھی باغیانہ دعوے،اور پھر مفاہمت، راستے صاف کرنا، اور ہر بار انہی دروازوں کی طرف واپسی۔ ان کا عروج بھی اسٹیبلشمنٹ کی مرہون منت تھا، گرتی ہوئی دیوار بھی اسی کی وجہ سے ہلتی تھی، اور آج بھی ان کی سیاست انہی طاقتور ہاتھوں کی محتاج ہے۔
آج جب وہ لندن سےایک نئےمعاہدے کےتحت واپس آئےتوانہیں biometrics سے لےکر پاسپورٹ اور پروٹوکول تک سب کچھ ایک دن میں مل گیا۔ وہی عدالتیں، وہی مقدمات، وہی دروازے سب کچھ اچانک کیسے کھل گیا؟ اگر ان کے کیسز جعلی تھےتو کیا عمران خان پر دو سو مقدمات سچ ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ آج ان کی حکومت ہے، کل نہیں ہوگی۔ آج جو عمران خان کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ کل انہیں یا ان کے خاندان کو بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے بیانیے ووٹ کو عزت دو کی طرف لوٹ آئیں، تاکہ ملک آئین اور قانون کے مطابق چل سکے۔ تاریخ میں وہی رہتا ہے جو نظام کو عوام کے تابع کرتا ہے، نہ کہ خود کو نظام کے اوپر۔
پاکستانی قوم بدل چکی ہے۔ سوشل میڈیا نے سب کچھ بے نقاب کر دیا ہے۔ میاں صاحب حکومت میں تو ہیں، مگر عوام کا مینڈیٹ ان کے پاس نہیں۔ اس نظام کے ساتھ عوام کی ہمدردی نہیں، صرف وہی کھڑا ہےجو اس کا براہِ راست فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ملک میں 35 سال مارشل لا رہا اور چالیس سالوں سے پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ن کی حکومت رہی ہے اور موجودہ حالات کا ذمہ دار عمران خان کے ساڑھے تین سال کی حکومت جس میں ڈیڑھ سال کرونا لاک ڈائون کے تھےکہاں کی سچائی ہے اور کیا یہ حقیقت کوئی تسلیم کرلے گا بالکل نہیں۔
آج میں اگر کسی ایک لیڈر کے ساتھ زیادتی پر خاموش نہیں رہ سکتا تو ماضی میں بھی نہیں رہا اورمستقبل میں بھی نہیں رہونگا چونکہ میں ایک صحافی ہوں جس کا کام نشاندہی کرناہوتا ہےملک اہم ہوتے ہیں اور ملک و قوم کے مجموعی مفادات کو ذاتی مفادات پسند و ناپسند پر مقدم رکھنا ہی قومی لیڈروں کی نشانی ہوتی ہے تاریخ ایسے لیڈروں کو معاف نہیں کرتی جو تاریخ میں درست سمت میں کھڑے نہیں ہوتے۔