Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

زہران ممدانی نے نیویارک کی تاریخ بدل دی

چند دن پہلے ٹی وی پر ایک ویڈیو کلپ میں صدر ٹرمپ کے پہلو میں ایک وجہ یہ قامت، خوش شکل نوجوان کھڑا نظر آیا- جس کی پہچان زہران ممدانی کے نام سے ہوئی۔اس نوجوان نے نیویارک کی تاریخ ہی بدل دی ہے۔نیویارک جیسے بڑے شہر کی میئرشپ کا بڑا اعزاز حاصل کر کے اس نے ایسی تاریخ رقم کی ہے، جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔مسلم امہ سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کی عمر پینتیس، چھتیس سال ہے۔زہران نے بڑے بڑے جغادری سیاستدانوں کو نیویارک کی میئرشپ جیت کر حیران کر دیا ہے۔وہ سکتے میں ہیں کہ یہ سب کچھ کیسے ہو گیا۔مسلم ہوتے ہوئے غیر مسلموں کے دیس میں زہران کیسے جیت گیا؟ زہران ممدانی 18 اکتوبر 1991 ء کو یوگنڈا میں محمود ممدانی کے گھر پیدا ہوئے، جو پیشے کے اعتبار سے ماہر تعلیم ہیں۔والدہ میرا نائر مشہور فلم پروڈیوسر ہیں۔زہران ممدانی پیدائش کے بعد والدین کے ہمراہ سات سال تک افریقہ میں رہے۔ بعدازاں والد کو امریکہ آنا پڑا، یوں وہ نیویارک آ کر آباد ہو گئے۔زہران ممدانی نے ابتدائی تعلیم برونکس ہائی اسکول آف سائنسنز سے حاصل کی۔جس کے بعد مزید تعلیم کے لیے بوڑوئن کالج میں داخلہ لے لیا ۔سیاست میں آنے سے قبل زہران ہاسنگ کانسلر اور ہپ ہاپ موسیقار کے طور پر بھی کام کرتے رہے-سیاست میں آئے تو 2020 میں نیویارک کی مشہور شخصیت اراویلا سیموٹاس کو شکست دے کر اسمبلی کی نشست حاصل کی۔دوسری بار بلا مقابلہ منتخب ہو کر اسی اسمبلی کا حصہ بنے جبکہ 2025 ء میں زہران ممدانی نے نیویارک کی میئرشپ کے لیے بلدیاتی انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔امریکی یہودیوں سمیت نیویارک سٹی کے تمام غیر مسلموں نے میئرشپ کے امیدوار کی حیثیت سے ان بلدیاتی انتخابات میں زہران کی آمد کو سراہا، دل کھول کر ان کی انتخابی مہم بھی چلائی-زہران کے انتخابی منشور میں کافی دعوے کئے گئے ہیں جو بہت حیران کن ہیں اور منفرد بھی۔انتخابی منشور میں انہوں نے کہا نیویارک شہر میں چلنے والی بسوں کو ٹکٹ یا کسی معاوضے کے بغیر چلایا جائے گا تاکہ شہریوں کو مفت سفری سہولت مل سکے۔شہر کے زیر ملکیت کریانہ اسٹورز کے کرائے منجمد کرنا بھی منشور میں شامل ہے۔لوگوں کے لیے سستی رہائش گاہوں کی تعمیر بھی زہران کے منشور کا حصہ ہے۔زہران ممدانی امریکی حکومت کے برعکس اسرائیلی حکومت کے سخت ناقدوں میں شامل ہیں۔میئرشپ کے الیکشن میں اپنی مردانہ وجاہت، مخصوص دلآویز مسکراہٹ، منشور، جداگانہ طرزِ گفتگو اور ملنسار شخصیت کی بدولت انہیں نہ صرف عوامی حلقوں بلکہ ترقی پسند نمایاں سیاستدانوں کی بھی حمایت اور مدد حاصل رہی۔زہران کا تعلق امریکہ کی ڈیمو کریٹک پارٹی سے ہے۔میئرشپ کے امیدوار کی حیثیت سے سابق گورنر اینڈریو کومو نے جب دستبرداری اختیار کی تو زہران ممدانی پارٹی کے متوقع امیدوار قرار پائے۔الیکشن میں کامیابی کے بعد زہران نیویارک شہر کے پہلے بھارتی نژاد امریکی میئر بن گئے ہیں۔بھارتی نژاد اس لیے کہ ان کے والد محمود ممدانی کا تعلق بھارت سے ہے۔جو ہجرت کر کے یوگنڈا آئے اور پھر وہیں سکونت اختیار کر لی۔ زہران ممدانی شیعہ مسلم ہیں۔راما دواجی ان کی والدہ ہیں۔جو بہت پڑھی لکھی اور انتہائی ذہین خاتون ہیں۔زہران نے افریقن سٹڈیز میں بیچلر کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔فطری طور پر اچھے انسان ہیں،بھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔بہترین اخلاق کی بدولت نیویارک میں بسنے والے تمام مذاہب اور مسالک کے لوگ انہیں چاہتے ہیں۔خواتین اور مردوں میں یکساں مقبول ہیں۔والہانہ طرزِ کلام انہیں اور بھی منفرد اور مقبول بنا دیتا ہے۔سماجی کام زہران کی ترجیحات میں شامل ہیں۔کسی کی مدد کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے۔ان کے چہرے پر ہر وقت ایک مخصوص مسکراہٹ رہتی ہے۔اسی لیے لوگ ان کے دیوانے ہیں۔ زہران انتخابی مہم میں مصروف تھے تو انہیں شہر کی مشہور شخصیات برنی سینڈرز اور الیگزینڈر یارو کامو کی مکمل حمایت حاصل رہی۔اردو کے بعض فیچرز اور رائٹ اپس میں ان کا نام ظہران لکھا گیا ہے۔جبکہ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے اپنا نام زہران درج کیا۔تاہم اس املا کو معتبر نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ اردو زبان کی ویب سائٹ کے اردو صفحے کی زبان اور اسلوب سے واضح ہوتا ہے کہ زہران کا ترجمہ غالبا کسی مشینی آلے کے ذریعے کیا گیا ہے-زہران کے والد سید محمود ممدانی بھارتی نژاد اور یوگنڈا کے معروف معلم،کئی کتابوں کے مصنف اور مسند تجزیہ کار ہیں۔
ان کی پیدائش کا سن 23 اپریل 1946 ہے جبکہ جائے پیدائش ممبئی۔محمود ممدانی جامعہ کولمبیا، کیپ ٹان یونیورسٹی اور جامعہ دارالسلام میں بطور پروفیسر خدمات انجام دے چکے ہیں 1962 میں یوگنڈا نے جب برطانیہ سے آزادی حاصل کی تو محمود ممدانی کو امریکی حکومت کی طرف سے سکالر شپ کی پیشکش ہوئی، جسے انہوں نے قبول کیا۔1974 میں ہارورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی اور نیویارک میں ایک طلبا تحریک میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جس کا مقصد طلبا کی فیسوں میں کمی کرانا تھا۔تعلیم مکمل کر کے واپس یوگنڈا آئے تو اس وقت کے آمر عیدی امین نے انہیں جلاوطن کر دیا۔یوگنڈا سے نکلنے کے بعد محمود ممدانی برطانیہ چلے گئے۔پھر انہیں تنزانیہ کی دارالام یونیورسٹی میں ملازمت مل گئی۔یوگنڈا میں عیدی امین کا تختہ الٹا گیا تو محمود ممدانی واپس یوگنڈا آگئے۔ان سب مشکل اور کٹھن حالات کو زہران ممدانی نے بہت قریب سے دیکھا، حالات کے تپتے الا نے انہیں کندن بنا دیا۔ایسا حوصلہ پیدا ہوا اور تصور میں آیا کہ وہ مشکل حالات سے لڑ سکتے ہیں، بخوبی سرخرو ہو کر ہر طرح کے حالات سے نکل سکتے ہیں-زہران ممدانی کی زندگی اور لائف سٹائل آج کے نوجوانوں کے لیے آگے بڑھنے اور بہت سی کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے مشعل راہ ہے۔نیویارک جیسے طاقتور شہر میں سابق گورنر کے مقابلے میں میئرشپ کا الیکشن لڑنا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔زہران نے مقابلے میں کہیں بھی حوصلہ نہیں ہارا۔ہمت نے بھی جواب نہیں دیا۔ثابت کر دیا انسان میں عزم صمیم ہو تو اقبال کے بقول بادِ مخالف سے بھی ٹکرا سکتا ہے۔ہر منزل پھر قدموں میں ڈھیر ہو جاتی ہے-زہران ممدانی کی جیت واقعی تاریخی واقعہ ہے جسے امریکہ، خاص کر نیویارک کے لوگ کبھی نہیں بھولیں گے۔زہران ممدانی نے جس منشور کے ساتھ کامیابی سمیٹی ہے۔پورا یقین رکھتے ہیں وہ اپنے منشور کی ہر شق پر پوری طرح عمل پیرا ہوں گے-زہران ممدانی نیویارک میں بسنے والی ہر کمیونٹی کے ہر فرد کی پسندیدہ شخصیت بن گئے ہیں۔لوگوں نے انہیں اپنی والہانہ محبت اور بھرپور اعتماد دیا ہے۔زہران کی جانب سے میڈیا کو دئیے گئے بیانات سے محسوس ہوتا ہے کہ زہران ممدانی نیویارک کے باسیوں کے بھروسے کو نہیں توڑیں گے۔کسی کے اعتماد پر پورا اترنا ہی زندگی کا مشن اور نصب العین ہونا چاہیے۔یہی نصب العین زہران ممدانی نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو دیا ہے۔انسان ہمت کرے توہ کیا نہیں کر سکتا۔زہران ممدانی نے نیویارک کی میئرشپ حاصل کر کے ثابت کیا ہے کہ ہر کامیابی انسان کی دسترس میں ہے۔خدا بھی ان کا ساتھ دیتا ہے جو ہمت کر تے ہیں اور نصب العین کے لیے کمر باندھ لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں