Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

عالمی امن کا سنگین امتحان

دہشت گردی، ہر بھیس میں اور دنیا کے ہر کونے میں، ہماری مشترکہ انسانیت کی نفی کے طور پر کھڑی ہے۔ کوئی تہذیب، کوئی مذہب اور کوئی اخلاقی ضابطہ معصوم جانوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ اس شر کو کسی ایک دین سے جوڑنا تاریخ اور حقیقت دونوں کو بگاڑنے کے مترادف ہے۔ دہشت گردی کا کوئی واحد گھر ہے نہ ایک چہرہ؛ یہ ایک ایسی لعنت ہے جس نے پاکستان کے اسکولوں سے لے کر یورپ کے کنسرٹس، امریکہ کے شاپنگ سینٹروں، غزہ کی بستیوں، مقبوضہ کشمیر کے بازاروں اور افریقہ و ایشیا کے عوامی مقامات تک ہر جگہ خون بہایا ہے۔ اس کے پیدا کردہ دکھ کی نوعیت عالمگیر ہے، اور اسی نوعیت کی عالمی مذمت اس کا حق ہے۔
پاکستان کا تجربہ دہشت گردی کے حوالے سے نہایت شدید رہا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ملک کو ستر ہزار سے زائد جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا‘جن میں شہری اور سکیورٹی اہلکار دونوں شامل ہیں‘جب کہ اقتصادی نقصانات سیکڑوں ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ کئی علاقوں میں ترقیاتی عمل برسوں پیچھے چلا گیا۔ لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور یا شمال و جنوب کے چھوٹے شہر‘کوئی بھی انتہاپسندانہ حملوں سے محفوظ نہیں رہا۔ یہ طویل اور منظم یلغار اس سوچے سمجھے منصوبے کی عکاس ہے جس کا مقصد پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا اور عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو ٹھیس پہنچانا ہے۔
پاکستان نے مسلسل عالمی برادری کے سامنے ان حملوں کے ماخذ پر ٹھوس شواہد رکھے ہیں۔ اس نے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین سے منظم گروہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ پاکستان بارہا اس امر کی نشاندہی کرتا رہا ہے کہ اگرچہ افغان زمین ان کارروائیوں کے لیے فوری لانچ پیڈ ہے، لیکن ان کے بے شمار حملوں کی ہدایات اور مالی معاونت بھارت سے جڑے نیٹ ورکس سے آتی ہے۔ فنڈنگ چینلز، مواصلاتی ریکارڈز اور ہینڈلرز کی تفصیلات پر مشتمل درجنوں ڈوزیئر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شیئر کیے گئے، مگر اس کے باوجود بیانات تو جاری ہوئے، عملی اقدام سامنے نہ آیا۔ سفارتی احتیاط، جغرافیائی سیاست اور معاشی مفادات نے اکثر اخلاقی ذمہ داری کو دبا دیا۔
یہ پیٹرن اُس وقت اور بھی واضح ہو جاتا ہے جب پاکستان میں کوئی بڑا بین الاقوامی ایونٹ ہوتا ہے۔ جب بھی غیر ملکی کھیلوں کی ٹیمیں‘ خصوصاً کرکٹ ٹیمیں‘ پاکستان آتی ہیں، اسی دوران مشکوک طور پر منظم دہشت گرد حملوں کی کوششیں سامنے آتی ہیں۔ ان حملوں کا مقصد صرف جانی نقصان نہیں بلکہ پاکستان کی ساکھ کو مجروح کرنا اور عالمی روابط کو روکنا ہوتا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ ایسے حملے اُس وقت بڑھتے ہیں جب پاکستان سفارتی یا معاشی پیش رفت کر رہا ہوتا ہے۔ برسوں کے تجربے نے اس امر کو واشگاف کر دیا ہے کہ ایک اسٹریٹجک ارادہ موجود ہے جس میں پاکستان کو غیر مستحکم، تنہا اور دباؤ میں رکھنا شامل ہیں۔
حالات کے تقاضوں کے تحت پاکستان نے اندرونی طور پر مشکل فیصلے کیے، جن میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی بھی شامل ہے۔ یہ فیصلہ کسی جذباتی ردعمل کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ قومی سلامتی کے تقاضوں اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق تھا کہ غیر دستاویزی افراد کو آخرکار اپنے اسٹیٹس کو درست کرنا یا وطن واپس جانا ہوتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں ہونے والے متعدد حملوں میں ایسے افراد شامل تھے جو غیر قانونی طور پر سرحد پار کرکے آئے یا پناہ گزینوں کی نقل و حرکت کو بطور ڈھال استعمال کیا۔ پاکستان کے قانونی اور منصفانہ اقدامات کے موقع پر بھارت نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غلط معلومات پھیلانے اور خفیہ ذرائع سے پاکستان مخالف سرگرمیوں کو بڑھانے کی کوشش کی۔ افسوس کہ عالمی نظام نے بھی زیادہ تر رسمی افسوس تک ہی خود کو محدود رکھا۔
اسی ماحول میں ایک اور تشویش ناک پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق افغانستان نے تاجکستان میں قائم ایک چینی کیمپ پر حملہ کیا ہے جس میں تین چینی شہری ہلاک ہوئے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ حملہ ڈرون کے ذریعے کیا گیا—جو خطے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے تکنیکی رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔ یاد رہے کہ بھارت نے مئی 2025ء میں اسرائیل کی مدد سے ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر حملے کیے تھے۔ ایسے ہتھکنڈوں کا غیر ریاستی یا نیم ریاستی عناصر کی جانب سے استعمال علاقائی پراکسی جنگ کی نہایت خطرناک شکل ہے۔ جب ممالک یا گروہ سرحد پار دہشت گردی کے لیے ڈرونز کا استعمال معمول بنا دیتے ہیں تو وہ پورے خطے کو ایک بے قابو تصادم کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
عالمی غفلت کے نتائج اب خطے سے باہر بھی دکھائی دینے لگے ہیں۔ امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد اسلحے اور عسکری سازوسامان کی بڑی مقدار‘ بشمول رائفلز، نائٹ وژن آلات اور بکتر بند گاڑیاں‘ مختلف گروہوں کے ہاتھ لگی۔ اس جدید اسلحے نے انتہاپسند عناصر کو خطے اور اس سے باہر تقویت دی ہے۔ چند روز قبل ایک افغان شہری نے وائٹ ہاؤس کے باہر‘ جو دنیا کے محفوظ ترین مقامات میں سے ایک ہے‘ حملہ کیا، جس میں ابتدائی طور پر دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ دہائیوں تک مغربی دارالحکومت دہشت گردی کو دور دراز خطوں کا مسئلہ سمجھتے رہے، مگر جب یہ خطرہ دنیا کی طاقت ور ترین حکومتوں کے دروازے تک پہنچا تو یہ تلخ حقیقت سامنے آئی کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ اس واقعے کے بعد واشنگٹن نے افغان شہریوں سے متعلق پالیسیوں پر نظرثانی اور ان کے پس منظر کی سخت جانچ پڑتال کا اعلان کیا—بالکل وہی اقدامات جو پاکستان غیر قانونی افغان باشندوں کے حوالے سے پہلے ہی کر رہا ہے۔
یہ واقعہ ایک ناقابل انکار حقیقت کی یاد دہانی ہے؛ عدم استحکام سرحدوں میں قید نہیں رہتا۔ اگر عالمی برادری پاکستان کے خدشات کو مسلسل نظرانداز کرتی رہی اور صرف اُس وقت حرکت میں آئی جب دہشت گردی مغربی شہروں تک پہنچے، تو یہ جنگ کبھی کامیابی سے نہیں لڑی جا سکے گی۔ دہشت گردی کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو انتخابی نگرانی کا مطالبہ کرے؛ یہ اجتماعی ذمہ داری، انصاف اور یکساں اصولوں کا متقاضی ہے۔
دنیا کو ضرورت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ایک سنجیدہ، منظم اور قابلِ نافذ عالمی ایجنڈا تشکیل دیا جائے۔ پراکسی جنگوں، ریاستی پشت پناہی سے ہونے والی کارروائیوں اور انتہاپسند گروہوں کی مالی معاونت کے نیٹ ورکس پر شفاف عالمی مکالمہ ہونا چاہیے۔ جو ممالک دہشت گردی کو اپنی خارجہ پالیسی کا ہتھیار بناتے ہیں، انہیں واضح طور پر بے نقاب اور پابندیوں کا سامنا کرنا چاہیے۔ موجودہ ڈھانچہ، جو زیادہ تر بیانات اور رسمی اقدامات تک محدود ہے، غیر مؤثر ثابت ہوا ہے۔ جب تک احتساب نہیں ہوگا، یہ خونی چکر جاری رہے گا۔
پاکستان کا مؤقف ہمیشہ اصولی اور واضح رہا ہے۔ وہ دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے، چاہے وہ مشرق میں ہو یا مغرب میں، فرد کی جانب سے ہو یا منظم نیٹ ورکس کی صورت میں۔ پاکستان نے عالمی انسدادِ دہشت گردی کوششوں میں تعاون کیا، انٹیلیجنس شیئر کی اور جہاں ضرورت پڑی عملی مدد فراہم کی۔ اس کی قربانیاں محض اعداد نہیں بلکہ لاکھوں ٹوٹے ہوئے گھرانے، ہزاروں یتیم بچے اور عدم استحکام کی وجہ سے مجروح نسلیں ہیں۔
عالمی برادری کو اب تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کی یہ جدوجہد ایک بڑی جنگ کا حصہ ہے جس میں ہر ملک کا حصہ ہے۔ دہشت گردی کہیں بھی ہو، خطرہ ہر جگہ بن جاتی ہے۔ دیانت داری، اتحاد اور اجتماعی عزم ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے دنیا ایک پرامن اور مستحکم مستقبل کی امید کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں