دہشت گردی اورانتہاپسندی کےبڑھتے ہوئے خدشات پاکستان کی جدیدسیاسی،معاشی اور معاشرتی تاریخ کاسب سےگہرااور پیچیدہ باب ہے۔ یہ صرف ایک سکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ ذہنوں ،رویّوں،بیانیوں اورریاستی کمزوریوں کا مجموعہ ہےجس نےکئی دہائیوں تک ملک کی سمت، رفتار اور وژن کومتاثر کیا۔ یہ مسئلہ محض چندگروہوں کی سرگرمیوں کانام نہیں بلکہ یہ ایک ایساانتشار ہے جو معاشرےکےمختلف طبقات،نوجوانوں کی سوچ، سیاسی استحکام، علاقائی صورتحال،بین الاقوامی تعلقات اورقومی اداروں کی کارکردگی سےجڑاہوا ہے۔ایسے مسائل کاحل ہمیشہ تدریجی، مربوط اورطویل المدت ہوتا ہے،کوئی ایک آپریشن،ایک تقریر یا ایک فیصلے سے یہ ختم نہیں ہوتے۔ اسی لیے پاکستان آج ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے جہاں ریاست کو اپنی سکیورٹی حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ اپنے سماجی اور معاشی ڈھانچے کو بھی نئی بنیادوں پراستوارکرنا ہوگا۔ گزشتہ برسوں میں پاکستان نےجس طرح دہشت گردی کےخلاف جنگ لڑی دنیاکےبہت کم ممالک ایسی مثالیں پیش کرسکتے ہیں۔ پاکستان کی فوجی قیادت نے اپنے وسائل، صلاحیت،قربانی اورپیشہ ورانہ عزم کے ساتھ ان علاقوں میں امن کی بنیادرکھی جہاں کبھی شدت پسندوں کاکھلا راج تھا۔ ہزاروں جوانوں نے اپنے خون سے زمین کو سیراب کیا، ہزاروں خاندانوں نے شہادت کا بوجھ اٹھایااور سینکڑوں آپریشنز نےملک کے اندردہشت گردوں کے انفراسٹرکچرکو توڑڈالا لیکن دہشت گردی کاپھیلاؤ اس وقت رک سکتا ہے 1جب ریاست بطورمجموعی ادارہ متحرک ہو۔ موجودہ حکومت نےاسی حقیقت کے پیشِ نظر وہ اقدامات کیےہیں جن کی بدولت نہ صرف سکیورٹی بہتر ہوئی بلکہ ایک مربوط قومی حکمتِ عملی کی طرف پیش رفت بھی تیز ہوئی۔ حکومت نے سکیورٹی فورسز کو سیاسی سپورٹ فراہم کی، خصوصی فنڈز کو فعال کیا، سرحدی نظام کی مضبوطی پر کام بڑھایا، انٹیلی جنس کو مربوط بنایا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دہشت گردی کے خلاف بیانیے کو قومی سطح پر دوبارہ فعال کیا۔ یہ وہ اقدامات ہیں جن کی ضرورت طویل عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی، مگر انہیں عملی صورت دینے کے لیے ایک توجہ، یکسوئی اور سیاسی ارادہ درکار تھا۔ موجودہ حکومت کا یہی پہلو قابلِ تعریف ہے کہ اس نے اس جنگ کو صرف ایک عسکری مسئلےکےطور پر نہیں بلکہ ایک قومی چیلنج کے طور پر لیا ہے۔پاکستان کے اس بحران کی تہوں میں جھانک کر دیکھاجائےتو صورتحال بہت واضح ہو جاتی ہے کہ دہشت گردی اس وقت مضبوط ہوتی ہےجب ریاست کمزورنظر آئے،سیاسی محاذ پر افراتفری ہو، حکومتیں غیر یقینی کا شکار ہوں، بیوروکریسی مفلوج ہو، عدلیہ اور پولیس میں اصلاحات سست ہوں اور معاشی نظام دباؤ کا شکار ہو، ایسے ماحول میں انتہا پسند گروہ آسانی سے خلا پیدا کر لیتےہیں۔ خوش قسمتی سے موجودہ حکومت نے سیاسی استحکام کو تمام تر مشکلات کے باوجود، اپنی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا ہے۔ سیاسی درجۂ حرارت کو نیچے لانے، پارلیمانی کارروائی کو منظم رکھنے اوراداروں کے درمیان تناؤ کم کرنے کی کوششیں نظر آتی ہیں۔ یہ استحکام اگربرقرار رہا تو دہشت گردی کےخلاف قومی اتحاداوریکجہتی مزیدمضبوط ہو سکتی ہے۔یہ حقیقت بھی تسلیم کرنے کے لائق ہے کہ موجودہ حکومت نے معاشی بحالی کے میدان میں جو قدم اٹھائے، وہ سکیورٹی ماحول کی بہتری کے لیے بھی اہم ہیں۔ دہشت گردی وہاں پنپتی ہے جہاں بے روزگاری اور غربت نوجوان نسل کو مایوسی کی طرف دھکیلتے ہیں۔ حکومت کے اقتصادی اقدامات چاہے وہ صنعتی بحالی کے منصوبے ہوں، نوجوانوں کے لیے ہنر مندی پروگرامز، یا ترقیاتی سکیموں کا دوبارہ آغاز، یہ سب کسی نہ کسی طور ذہنی فضا کو بدلنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔پاکستان کا ایک اور بڑا چیلنج فکری انتہا پسندی ہے۔ ایک ایسا وائرس جو لوگوں کے ذہنوں میں داخل ہو کر ان کی سوچ بدل دیتا ہے، انہیں دوسروں کے خلاف کھڑا کردیتا ہے اور معاشرے میں عدم اعتماد کو پھیلا دیتا ہے۔ اس وائرس کا علاج بندوق سے نہیں، درسگاہوں، گھروں، مساجد اور میڈیا سے ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست نے حالیہ برسوں میں پیش رفت دکھائی ہے۔
قومی نصاب کی اصلاح، مذہبی ہم آہنگی کی مہمات، علماء اور مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان مکالمہ اور نوجوانوں کے لیے قومی سطح کی فکری سرگرمیوں کا آغاز وہ اقدامات ہیں جنہیں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت نے ان کوششوں کو جاری رکھا ہے اور یہ وہ عمل ہے جسے تسلسل کے ساتھ مضبوط کرنا ہوگا۔دہشت گردی کے خاتمے میں خارجہ پالیسی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی صورتحال اسے ایک ایسے خطے میں رکھتی ہے جہاں پر جنگیں، عالمی رقابتیں، سرحدی چیلنج اور سیاسی تناؤہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ پڑوسی ممالک کے ساتھ رابطے بہتر کرنے، عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف مضبوط کرنے اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف تعاون بڑھانے میں حکومت کی سنجیدگی قابلِ ذکر ہے۔ معاشرے کو انتہا پسندی سے محفوظ رکھنے کے لیے انصاف کا نظام بھی فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں لوگ سمجھیں کہ قانون چند طبقات کے لیے نرم اور باقی سب کے لیے سخت ہے، وہاں ریاست کا بیانیہ کمزور ہو جاتا ہے۔ دہشت گردی کے مقدمات، شدت پسندوں کی مالی معاونت، نفرت انگیز تقاریر اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف بروقت کارروائی ضروری ہے۔ پولیس اور عدلیہ میں اصلاحات کی رفتار سست ضرور ہے، مگر موجودہ حکومت نے اس سمت میں کچھ واضح فیصلے کیے ہیں جو آئندہ وقت میں اس خلاء کو پُر کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ قوموں کے حوصلے سے جیتی جاتی ہے۔ اگر قوم متحد ہو، ادارے ایک صف میں کھڑے ہوں اور عوام میں اعتماد کا مادہ زندہ ہو، تو دہشت گردوں کا بیانیہ شکست کھا جاتا ہے۔ موجودہ حکومت نے قوم میں اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ عوام کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ ریاست اپنے فرائض سے غافل نہیںہے۔آخر میں یہ کہناضروری سمجھتی ہوں کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مسئلے کو صرف موجودہ حالات یا وقتی ضرورتوں سے نہ دیکھا جائے۔ یہ ایک ایسی قومی جنگ ہے کہ اگر ہم نے حقیقت کا ادراک نہ کیا یا اگر ہم نے تسلسل نہ رکھا تو یہ دہائیوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ پاکستان اس وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں ریاستی ادارے پہلے سے زیادہ منظم، سیاسی ماحول بہتر، معاشی امکانات نسبتاً روشن اور عوام بہتر مستقبل کے خواہش مند دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ موقع ہے جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آج ہم فکری و سماجی اصلاحات، انصاف، تعلیم، معاشی شمولیت اور سیاسی استحکام کے ساتھ اپنی حکمتِ عملی کو مضبوط کریں تو آنے والا وقت زیادہ محفوظ، زیادہ روشن اور زیادہ پُراعتماد ہو سکتا ہے۔مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت سکتا ہےیانہیں، مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان اس جنگ کو کس حکمتِ عملی، کس تسلسل اور کس قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ لڑے گا۔ اگر ریاست مضبوط ارادے کے ساتھ آگے بڑھے، ادارے اپنی اصلاحات کو سنجیدگی سے جاری رکھیںاور معاشرہ انتہا پسندی کو اجتماعی طور پررد کرےتو یقیناً پاکستان اس بحران سے نکل کر ایک مستحکم، روشن، متحد اور پُرامن مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔