Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

قاضی …. اہل کشمیر کا پشتیبا ن

قاضی حسین احمد علم و کردار ‘ عزم و ہمت اور جہد مسلسل کا عملی نمونہ تھے۔ وہ حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے سچے عاشق ‘اقبال کے مرد مومن‘ امت کے غم خوار ‘ قافلہ راہ حق کے داعی راہی ‘ ہمقدم ‘ مربی و محسن تھے جن سے قائد اور کارکن یکساں محبت ہی نہیں عقیدت رکھتا تھا ۔ ان سے تعلق رکھنے والا ہر فرد ہی سمجھتا تھا کہ قاضی صاحب اس کے ہیں ۔ جماعت کے حلقوں سے باہر بھی اختلاف رکھنے والے بھی ان کے اخلاص کے قدر دان تھے۔ شاید وہ پاکستان میں واحد ایسے فرد تھے جو ہر ایک سے اور ہر سطح پر کمیونیکشن کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان پر بہت کچھ لکھا گیا اور بہت کچھ لکھا جائے گا لیکن شاید ہی ان کی متنوع خوبیوں اور صلاحیتوں کا احاطہ ہو سکے ۔اسلامی جمعیت طلبہ جموں وکشمیر کے ناظم کی حیثیت سے 1980ءسے قاضی صاحب سے اس وقت ایک ذاتی تعلق استوار ہوا جب وہ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل تھے۔ افغان جہاد مستحکم ہو رہا تھا جس کے استحکام میں ان کا ایک تاریخی کردار تھا ۔ ایرانی انقلاب اور افغان جہاد کے استحکام نے کشمیر کے نوجوانوں میں بھی ایک جذبہ پیدا کر دیا تھا اور وہ بھارت کی پے در پے چیرہ دستیوں اور وعدہ شکنیوں سے اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ بھارتی استبداد سے گلو خلاصی کے لیے جہاد کے علاوہ کوئی راستہ نہیں لہٰذا کشمیری نوجوانوں کو بھی افغان جہاد کے عمل سے استفادہ کرنا چاہیے اور مرحلہ وار تیاری بھی تا کہ مناسب وقت پر بھارتی استبداد کو چیلنج کیا جا سکے ۔یوں تو قاضی صاحب پوری دنیا کے مظلوم مسلمانوں کے پشتیبان تھے لیکن کشمیر کے ساتھ ان کا تعلق سوا تھا ۔ 1989ءسے لے کر تادم واپسیں انہوں نے ملت اسلامیہ جموں وکشمیر کے ایک سچے خیر خواہ اور پشتیبان ہونے کا حق ادا کیا ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر سے آنے والے مہاجرین ‘ مجاہدین کی دیکھ بھال اور ضروریات کا اہتمام ہو یا پاکستان میں رائے عامہ بنانے کا محاذ ہو ‘ بین الاقوامی سطح پر سفارتی محاذ کو متحرک کرنا ہویا مقبوضہ کشمیر میں یتمیٰ اور شہداءکے خاندانوں کی کفالت کا چیلنج ہر محاذ پر انہوں نے کشمیریوں کی پشتیبانی کی ۔
1990ءمیں جب ہزاروں لوگ آنا ً فاناً آزاد کشمیرمیں آنا شروع ہوئے تو پاکستان شدید سیاسی کشیدگی اور عدم استحکام کا شکار تھا ‘ آزاد جموں وکشمیرمیں حکمرانوں کی ترجیح محض ذاتی اقتدار کا حصول اور اس کا تحفظ بن کر رہ گیا تھا۔ اس مشکل مرحلے پر بیس کیمپ میں جماعت اسلامی نے ہزاروں مہاجرین اور ان کے خاندانوں کی دیکھ بھال کا بیڑا اٹھایا ۔ وہ کام جو حکومتوں کو کرنا چاہیے تھا وہ جماعت اسلامی کو کرنا پڑا ۔اس سارے عمل میں انہوں نے قدم قدم پر حسب ضرورت وسائل بھی فراہم کیے اور شفقت اور رہنمائی سے بھی نوازا ۔ پاکستان میں جماعت کی ساری تنظیم اور برادر تنظیموں کو تحریک کی خدمت کے لیے وقف کر دیا ۔ اس سلسلے میں اہل خیر حضرات کے سامنے خود جھولی پھیلائی ۔ نیزسید منور حسن صاحب پروفیسر غفور احمد صاحب ‘ جناب نعمت اﷲ خان صاحب جیسے سینئر رہنماؤں نے بھی تاجران کے سامنے مظلوم کشمیریوں کے ریلیف کے لیے اپنی جھولیان پھیلا کر خدمت اور کشمیر سے وابستگی کا ایک والہانہ انداز متعارف کروایا ۔قوم ‘حکومت حزب اختلاف اور حزب اقتدار بلکہ زندگی کے تمام شعبوں اور طبقات نے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا دن 5فروری 1990ءکو پہلی مرتبہ ان ہی کی اپیل پر منایاگیا ۔ اس وقت کشیدگی کے ماحول میں پوری قوم کاکشمیری حریت پسندوں کی اس عظیم الشان یکجہتی کے مظاہرے نے ایک طرف کشمیریوں کو عزم و حوصلے سے لیس کیا اور دوسری طرف پوری دنیا کو متوجہ ہونے پر مجبور کر دیا ۔ کشمیر صرف کشمیریوں کا نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم اور اس کے بچے بچے کا مسئلہ ہے ۔یہ ان کا اخلاص تھا کہ بائیس سال گزرنے کے باوجود ہر سال پانچ فروری کو پوری قوم ایک مرتبہ پھر تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے چارج ہو جاتی ہے ۔یوں پاکستانی حکام اور عوام سب مل کر تجدید عہد کرتے ہیںکہ کشمیرکی آزادی تک اہل پاکستان ان کے شانہ بشانہ ہیں ۔ یکجہتی کے اس تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے کشمیرپر قومی کانفرنسوں اور ریلیوں کا اہتمام بھی ان کی رہنمائی میں جماعت نے پورے ملک میں کیا ۔ یہ سلسلہ تسلسل سے آج تک جاری ہے ۔ملک کے اندر رائے عامہ بنانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے سفارتی محاذ پر بھی توجہ دی کہ آزادی کی تحریکوں میں بین الاقوامی محاذ کی بڑی اہمیت ہوا کرتی ہے ۔
بد قسمتی سے شملہ معاہدہ کے بعد پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو کسی بھی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ایک مرتبہ بھی اجاگر نہ کیا جب کہ ہندوستان مسلسل دنیا کو باور کراتا رہا کہ یہ مسئلہ حل ہو چکا ہے اور کشمیری اب اس کے استعماری قبضے پر مطمئن ہیں ۔اس لحاظ سے اس مسئلے کو شملہ معاہدے کے طابوت سے نکال کر ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی اداروں کے ایجنڈے پر لانا ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ا س سلسلے میں انہوں نے سب سے پہلے دنیا بھر میں اسلامی تحریکوں کی قیادت کو مشاورت کے لیے مدعو کیا۔چنانچہ 13جولائی 1990ءکو ایک بین الاقوامی کانفرنس جماعت کے زیر اہتمام مظفر آباد میں منعقد ہوئی ۔ اس کے تسلسل میں اسلام آباد اور لاہور میں بھی مشاورتی اجلاس ہوئے اور تحریکوں کو اہداف دیے گئے کہ اپنے اپنے ممالک میں رائے عامہ اور حکومتوں کو کشمیر کی صورت حال اور بھارتی مظالم سے آگاہ کیا جائے نیزامت مسلمہ کے حوالے سے بھارتی عزائم بے نقاب کیے جائیں ۔اسلامی تحریکوں نے اپنے اپنے دائرہ کار میں پوری مسلم دنیا میں ایک تحرک پیداکیا ۔اس تسلسل میں ایک کل جماعتی پارلیمانی وفد کی قیادت کرتے ہوئے پورے عالم اسلام کا دورہ کیا ۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں