(گزشتہ سے پیوستہ)
اس دورے کے دوران میں حکمرانوں ‘ وزرائے خارجہ ممبران پارلیمنٹ‘ علماء‘سکالرز اور میڈیا کو کشمیر کی صورت حال سے آگاہ کیا۔ محترم پروفیسر خورشید صاحب‘ بیرسٹر مسعود کوثر ‘ مولانا قاضی عبداللطیف ‘ جناب خلیل حامدی ‘ جیسی عالی دماغ شخصیات اس وفد میں شامل تھیں۔راقم بھی اس وفد کا حصہ تھا۔اس دورے میں عالم اسلام میں ان کے بے پناہ احترام اور بے پناہ اثر ورسوخ کا چشم دید مشاہدہ کیا ۔ محترم قاضی صاحب اور پروفیسر خورشید احمد ‘ خلیل حامدی صاحب عالم اسلام کی اسلامی تحریکوں اور اہل دانش میں بہت محترم نام تھے اس لحاظ سے سرکاری اور عوامی سطح پر اس وفد کو بے پناہ پذیرائی ملی۔ بین الاقوامی سطح پر ان کے احترام اور بے پناہ نفوذ کا قدم قدم پر مشاہدہ ہوتا رہا ۔کئی کئی گھنٹے کی نشستوں میں قاضی صاحب نے مسئلے کا پس منظر اور کشمیریوں کی قربانیوں کے بار ے میں بریفنگ دی ۔
ترکی کی پارلیمنٹ کی امور خارجہ کمیٹی کے ساتھ تقریباً چار گھنٹے کی تفصیلی نشست رہی ۔ جس میں شرح و بسط کے ساتھ انہوں نے صورت حال واضح کی اور قابل تشفی جو ابات دیے ۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ مجھے پہلی مرتبہ اس مسئلہ کی صحیح تفہیم ہوئی اور تجویز دی کہ اس کے دورے تسلسل سے جاری رکھے جائیں۔ترکی کے صدر کے ساتھ آدھ گھنٹے کی طے شدہ ملاقات ‘ پونے دو گھنٹے تک جاری رہی ۔ قاضی صاحب نے بریفنگ میں اتنی دلچسپی پید اکر لی کہ ترک صدر ترگت اوزال مرحوم نے تمام دیگر پروگرامات موخر کرتے ہوئے میٹنگ جاری رکھنے پر اصرار کیا اوراپنی حکومت اور عوام کی طرف سے بھر پور ساتھ دینے کا وعدہ کیا ۔اس طرح کی اہم ملاقات مصر کے وزیر خارجہ عمر موسیٰ سے ہوئی جو بعد میں عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے ۔ جمال عبدا لناصر کے دورسے مصر بھارتی حلقہ اثر میں رہا اس لیے قاضی صاحب کی رائے تھی کہ مصر کی پالیسی ہم آہنگ ہونے سے تمام عالم عرب پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس موقع پر مصر کی اہمیت اس لحاظ سے بھی بڑھ گئی تھی کہ اگلے ماہ مصر او آئی سی کے سالانہ اجلاس کا میزبان بننے والا تھا ۔ چنانچہ سفارتی قواعد کے مطابق میزبان ملک کی رضا مندی کے بغیر کشمیر کا ایجنڈے پر زیر بحث لانا ناممکن تھا ‘اس لیے یہاں محترم قاضی صاحب کی قیادت نے وفد میں تمام جماعتوں ‘ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں ‘ جامع الازہر کے شیخ الجامعہ شیخ جاد الحق علی جاد الحق اور ممبران پارلیمنٹ سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور انہیں باور کرایا کہ مصر کی او۔ آئی ۔ سی کی رکنیت کی بحالی میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا ‘لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ کشمیر کے مسئلے میں مصر تعاون کرے اور آئندہ ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر کو شامل کیا جائے ۔اس موقع پر اخوان المسلمون کے تعاون سے قاہرہ ‘ اسکندریہ وغیرہ میں عظیم الشان کشمیر کی یکجہتی کے لیے عظیم الشان جلسوں کا بھی انعقاد ہوا۔حکومتی اور عوامی سطح پر ایسا ماحول بنا کہ حکام نے وعدہ کیا کہ اجلاس میں کشمیر ایجنڈے پر رہے گا۔ بعد میں او ۔ آئی ۔سی کے وزرائع خارجہ کے اجلاس میں 1972ءکے شملہ معاہدے کے بعد پہلی مرتبہ کسی بین الاقوامی پلیٹ فارم سے مسئلہ کشمیر کی باز گشت سنائی گئی اور پاکستان کی طرف سے کسی پیش کی گئی قرار دار متفقہ طور پر منظور ہوئی ۔ جس میں بھارتی مظالم کی مذمت کرنے کے علاوہ اقوا م متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں حق خود ارادیت نے ذریعے حل کرنے پر زور دیاگیا ۔
اس تسلسل میں او آئی سی نے بعد میں کشمیر رابطہ گروپ اور کشمیر ریلیف فنڈ قائم کیے اور حریت کانفرنس کو او آئی سی میں مبصر کا درجہ بھی دیا گیا ۔یوں یہ مسئلہ او آئی سی کی وساطت سے اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی سیاسی اور انسانی حقوق کے اداروں میں زیر بحث آیا اور بھارتی خواہش کے علی الرغم یہ مسئلہ دنیا کا فلیش پوائنٹ قرار پایا۔ اس سارے عمل میں بنیادی قربانیاں تو کشمیریوں کی ہیں ۔ لیکن بین الاقوامی سطح پر حکومت پاکستان اور او آئی سی کو مطلوبہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرنا محترم قاضی صاحب اور ان کی ٹیم کا ایک تاریخی کردار ہے ۔ جسے کوئی مورخ نظر انداز نہیں کر سکتا ۔یہی وجہ ہے اس وقت کے آزاد جموں وکشمیر کے وزیر اعظم ممتاز راٹھور مرحوم نے جن کا اپنا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا قاضی صاحب کی مظفر آباد آمد پر انہیں گارڈ آف آنر پیش کرنے کا اعلان کیا اور کشمیر کاز کے لیے ادا کی گئی شاندار خدمات پر انہیں ”نشان کشمیر “پیش کیا ۔ بعد میں جب پاک بھارت کشیدگی کی وجہ سے بھارت لائن آف کنٹرول سے متصل آبادی پر شیلنگ کر کے ہزاروں لوگوں کو بے گھر ہونے پر مجبور کر دیا ۔ وادی نیلم کا محاصرہ کر لیا تو قاضی حسین احمد ہر جگہ خود بہ نفس نفیس پہنچے اور متحدہ مجلس عمل کی ایک پارلیمانی وفد بھی عوام کی مشکلات کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا ۔متاثرین کے لیے ریلیف کا اہتمام کیا اور بیس کیمپ کے عوام اور پاک فوج کے حوصلے بلند کیے ۔یوںبھارتی عزائم کے مقابلے میں مجاہدین ‘ عوام اور پاک فوج کی ایک ناقابل تسخیر دفاعی لائن کا اہتمام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح 2005ءکے زلزلہ میں آزا دکشمیرمیں جو قیامت صغریٰ برپا ہوئی اس میں بھی محترم قاضی صاحب پہلی شخصیت تھے جو تمام متاثرہ علاقوں میں خود پہنچے ۔ ریلیف کیمپس قائم کروا ئے پوری جماعت اور مرکزی ٹیم کوریلیف کے لیے وقف کر دیا ۔ ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں اور مسلم این جی اوز کومتوجہ کیا کہ آزمائش کی اس گھڑی میں آگے بڑھ کر اپنا کردار اد اکریں ۔دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے قائدین وفود اور ریلیف کے اداروں کے ساتھ آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے متاثرین کی معاونت کو پہنچے۔ چنانچہ اسلامی تحریک کے رضا کاروں نے اخلاص سے وہ کردار ادا کیا جس کا اعتراف اس وقت کے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان بھی کرنے پر مجبور ہوئے ۔