پروازِ جاودانی
ہر نوجوان دل مستقبل کے خوابوں سے لبریز ہوتا ہے، اور اکثر یہ خواب ہمت، عزم اور اپنی قوم کی خدمت کے جذبے کے رنگوں سے آراستہ ہوتے ہیں۔ 17 فروری 1951ء کو کراچی میں پیدا ہونے والے راشد منہاس
ہر نوجوان دل مستقبل کے خوابوں سے لبریز ہوتا ہے، اور اکثر یہ خواب ہمت، عزم اور اپنی قوم کی خدمت کے جذبے کے رنگوں سے آراستہ ہوتے ہیں۔ 17 فروری 1951ء کو کراچی میں پیدا ہونے والے راشد منہاس
بادل پھٹنے کے واقعات صدیوں سے فطرت کے پراسرار اور تباہ کن مظاہر میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ اچانک اور شدید بارشیں ہوتی ہیں جو عموماً ایک گھنٹے کے اندر چند کلومیٹر کے علاقے پر کئی سینٹی میٹر پانی برسا
قوموں کی زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں، اور اکثر فطرت کی طرف سے ملنے والے امتحان سب سے سخت ثابت ہوتے ہیں۔ ان لمحات میں صبر، حوصلہ اور اتحاد ہی ایک قوم کی اصل قوت کو ظاہر
1947 ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد دنیا کے نقشے پر دو خودمختار ریاستیں ابھریں ، پاکستان اور بھارت۔ ان دو ممالک کا قیام محض جغرافیائی علیحدگی نہ تھا؛ بلکہ یہ ایک پیچیدہ اور اکثر معاندانہ تعلق کا آغاز
امریکہ نے باضابطہ طور پر بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو، جو بلوچستان میں بدامنی اور دہشت گردی پھیلانے کے لئے بدنام ہے، ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ برسوں کے ایسے شواہد کے بعد
سردار ایاز صادق اُن چند منفرد اسپیکرز میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بحیثیت سپیکر ایسی روایات قائم کیں جو اس سے قبل پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ان کی نمایاں کوششوں میں سے
(گزشتہ سے پیوستہ) صدرٹرمپ کا پاکستان کی جانب جھکاؤ ہند-امریکہ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا گیا۔ اگرچہ انہوں نے اپنی صدارت کے آغاز میں اسلام آباد پر سخت تنقید کی تھی، مگر 2019 ء کے وسط تک اُن کالہجہ خاصانرم
2000 کی دہائی کےاوائل سےہند- امریکہ تعلقات کوعموماً بڑھتےہوئےتزویراتی اشتراک کی علامت کےطورپردیکھاجاتارہاہے،خاص طورپر دفاعی تعاون،تجارت اورچین کےابھار پر مشترکہ تشویش جیسےشعبوں میں۔ تاہم صدرڈونلڈٹرمپ کےدورِحکومت (2017–2021) میں یہ تعلقات متعدد غیرمتوقع نشیب و فراز، سفارتی سردمہری کے لمحات اورخاص
1947 ء میں پاکستان کے قیام کے بعد سے وطنِ عزیز کے وہ بیٹے اور بیٹیاں جو دیارِ غیر میں آباد ہوئے، اپنے ملک کے ساتھ گہری وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ دنیا کے مختلف براعظموں میں پھیلے ہوئے یہ
ایک ایسی دنیا میں جہاں نایاب جانوروں کو بچانے کی مہمات اور جانوروں پر ظلم کے خلاف احتجاج چند گھنٹوں میں عالمی حمایت حاصل کر لیتے ہیں، وہاں مسلمانوں کے بے رحم قتلِ عام پر مسلسل خاموشی ناقابلِ برداشت حد