جدید دنیا میں، جہاں بداعتمادی اور دشمنی اکثر مفاہمت کے امکانات کو دبا دیتی ہیں، قطر نے مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے لیے امن کی فاختہ کی حیثیت قائم کر لی ہے۔ جغرافیائی طور پر ایک چھوٹی ریاست ہونے کے باوجود، عالمی سفارت کاری میں اس کا اثر و رسوخ اس کے حجم سے کہیں بڑھ کر ہے۔ حکمتِ عملی پر مبنی غیرجانبداری، بامقصد ریاستی حکمتِ عملی اور وہاں قدم رکھنے کی جرات جہاں بڑے ممالک ہچکچاتے ہیںان سب کے امتزاج نے قطر کو ان تنازعات میں ثالث کے طور پر ابھارا ہے جنہوں نے خطوں کو اپنی لپیٹ میں لیا اور عالمی برادری کے صبر کا امتحان لیا۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ وہی دارالحکومت جو مکالمے اور مفاہمت کی علامت ہے دوحہ اسرائیلی جارحیت کی زد میں آیا، اور اس شہر پر سیاہ سایہ ڈال گیا جس نے بارہا امن کی نازک امیدوں کی میزبانی کی۔
قطر کے سفارتی کردار کی بنیاد اس کی اس تیاری پر ہے کہ وہ دوست یا دشمن، سب سے بات کرے اور اپنے وسائل کو تباہی نہیں بلکہ صلح و مفاہمت کے لیے بروئے کار لائے۔ 2008 ء میں جب لبنان خانہ جنگی کے دہانے پر تھا، قطر نے دوحہ میں کڑوے مخالفین کو اکٹھا کیا اور ایک معاہدہ کرایا جس نے ملک کو انتشار میں گرنے سے بچا لیا۔ اسی طرح اسرائیل اور حماس کے طویل تنازع میں قطر ہمیشہ ایک اہم ثالث رہا ہے۔ جب دنیا کی توجہ غزہ سے ہٹ گئی، قطر نے آگے بڑھ کر نہ صرف مالی امداد فراہم کی تاکہ ہسپتال، بجلی اور بنیادی ڈھانچہ قائم رہ سکے بلکہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے میں بھی کردار ادا کیا۔ 2012 ء میں امیر حمد بن خلیفہ الثانی نے غزہ کا دورہ کیا، جو کسی سربراہِ مملکت کا بے مثال اقدام تھا، اور دوحہ کے انسانی ہمدردی کے عزم کا اعلان تھا۔ 2023 ء کی ہولناک اسرائیل-حماس جنگ میں بھی قطر مرکزی حیثیت میں رہا اور جنوری 2025 ء کی جنگ بندی کے مذاکرات کو ممکن بنایا۔ قیدیوں کا تبادلہ، انسانی راہداریوں کا قیام اور آئندہ بات چیت کا فریم ورک سب دوحہ کی صبر آزما سفارت کاری کا ثمر تھے۔ افسوس کہ اس کردار کا احترام کرنے کے بجائے اسرائیل نے دوحہ ہی کو نشانہ بنایا، وہی شہر جو امن کی تلاش میں بارہا مذاکرات کے دروازے کھولتا رہا۔قطر کی امن پسندی صرف مشرقِ وسطی تک محدود نہیں رہی۔ سوڈان اور دارفور میں 2010 کی دہائی میں قطر نے ثالثی کا کلیدی کردار ادا کیا۔ افغانستان میں، امریکا اور طالبان کے مذاکرات کے لیے قطر نے غیرجانبدار مقام فراہم کیا، جو بالآخر 2020 ء کے دوحہ معاہدے پر منتج ہوا۔ یہ معاہدہ، اگرچہ متنازع تھا، مگر امریکی افواج کے انخلا کا راستہ متعین کر گیا اور اس اعتماد کو اجاگر کیا جو قطر پر مذاکرات کی میزبانی کے لیے کیا گیا۔
یمنی تنازع کے ابتدائی مراحل میں بھی قطر نے کردار ادا کیا، اگرچہ 2017 ء کے سفارتی بحران نے اس کی سرگرمیوں کو وقتی طور پر محدود کر دیا۔ اس بحران میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر پر پابندیاں لگائیں، جو اس کی مزاحمت کا امتحان تھا۔ مگر قطر نے اپنی آزاد پالیسی اپنائی، ترکی اور ایران کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے اور 2021 ء تک مصالحت تک پہنچ گیا۔ حیران کن طور پر، پیچھے ہٹنے کے بجائے دوحہ اس بحران سے مزید پرعزم ہو کر نکلا کہ اپنی آزاد خارجہ پالیسی اور ثالثی کے کردار کو جاری رکھے۔
شام میں، جہاں جنگ نے شہروں کو کھنڈر بنا دیا، قطر نے 2017 ء میں مضایا جیسے محصور قصبوں سے ہزاروں شہریوں کے انخلا کا انتظام کیا۔ لیبیا اور قرنِ افریقہ میں بھی قطر نے تنازعات کو کم کرنے کی کوشش کی، اگرچہ کبھی کبھار خلیجی ریاستوں کے مفادات سے ٹکرا گیا، لیکن ہمیشہ اس یقین کے ساتھ کہ مکالمہ تصادم سے بہتر ہے۔ حتی کہ اریٹیریا اور جبوتی کے سرحدی جھگڑے جیسے نسبتاً معمولی تنازع میں بھی قطر نے ثالثی کی، یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ اس کی توجہ کے لیے کوئی تنازع چھوٹا نہیں۔چنانچہ جب اسرائیلی حملے دوحہ پر ہوئے، تو یہ صرف ایک دارالحکومت پر حملہ نہ تھا بلکہ مفاہمت اور ثالثی کی علامت پر حملہ تھا۔ یہ عالمی برادری کے اس اعتماد پر ضرب تھی جو قطر کو امن کے غیرجانبدار مقام کے طور پر دیکھتی ہے۔ یہ عمل سفارت کاری کی قدروں کے بھی خلاف تھا اور اس نازک مگر ضروری امید کے بھی کہ مشرقِ وسطی کے تاریک ترین تنازعات میں بھی ایک ایسی جگہ موجود ہے جہاں مخالفین چاہے بادل نخواستہ ہی سہی بات کر سکیں۔
قطر کی کہانی یہ ثابت کرتی ہے کہ چھوٹی ریاستیں بھی بصیرت اور ثابت قدمی کے ذریعے امن کے لیے غیرمعمولی اثر ڈال سکتی ہیں۔ اس کا سب کے ساتھ رابطہ قائم رکھنے کا عزم چاہے وہ ایران ہو، امریکا، حماس یا حزب اللہ بحران کے وقت قیمتی ثابت ہوا۔ دوحہ نے کبھی غلبے کی نہیں بلکہ سمجھوتے کی کوشش کی؛ طاقت کی نہیں بلکہ امن کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج قطر کو صرف سہولت کار نہیں بلکہ امن کے اس فاختہ کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے جس کے پروں نے براعظموں تک پھیلے تنازعات کو ڈھانپنے کی کوشش کی ہے۔
دوحہ پر حملہ اس کردار کو کمزور نہیں بلکہ عالمی برادری کے اس عزم کو مزید مضبوط کرنا چاہیے کہ ایسے مکالماتی مراکز کو تحفظ دیا جائے۔ ورنہ دنیا اس مستقبل کی طرف بڑھ سکتی ہے جہاں جنگ مکالمے کو خاموش کر دے اور خون عقل و دلیل کی آواز کو دبا دے۔ قطر نے دکھایا ہے کہ امن، چاہے کتنا ہی نازک کیوں نہ ہو، ممکن ہے۔ اس نے تاریخ میں اپنی جگہ فتوحات سے نہیں بلکہ مفاہمت سے بنائی ہے، جارحیت سے نہیں بلکہ تفہیم سے اور ایسے وقت میں جب انسانیت صلح کے لیے تڑپ رہی ہے، قطر کا کردار امن کی فاختہ کے طور پر پہلے سے کہیں زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے۔