مظفرآباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کو عہدے سے ہٹانے کی تمام کوششیں دم توڑ گئیں، اور ان کے خلاف چلائی جانے والی افواہیں بھی بے بنیاد ثابت ہوئیں۔ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اعتماد کا ووٹ نہ لینے اور حکومتی اتحاد توڑنے میں مکمل طور پر ناکام رہی، جب کہ اس کے پارلیمانی نمبرز پورے ہونے کے تمام دعوے بھی غیر مؤثر ثابت ہوئے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اپنی مرکزی قیادت کو وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے قائل کرنے میں بری طرح ناکام رہی۔ پارٹی کی جانب سے مسلسل تین اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیے گئے، جن میں وزیراعظم کے خلاف چارج شیٹ پیش کی گئی، تاہم وہ کسی فیصلے یا پیش رفت کا باعث نہ بن سکی۔
آزاد کشمیر امور کی انچارج فریال تالپور کی زیر صدارت پہلا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا جو بے نتیجہ رہا۔ اس کے بعد صدر مملکت اور شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کی زیر صدارت دوسرا اجلاس ایوانِ صدر اسلام آباد میں ہوا، تاہم یہ اجلاس بھی کسی حتمی فیصلے پر نہ پہنچ سکا۔ پیپلز پارٹی کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (CEC) کا اجلاس بھی وزیراعظم کی تبدیلی پر کسی متفقہ رائے یا فیصلہ تک نہ پہنچ سکا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے ممکنہ متبادل ناموں پر غور ضرور ہوا، لیکن کوئی بھی نام پارٹی قیادت کی مکمل تائید حاصل نہ کر سکا۔
پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما شیری رحمان نے بیان دیا ہے کہ پارٹی آزاد کشمیر میں اپنا سیاسی کردار جاری رکھے گی۔ تاہم اندرونی ذرائع کے مطابق بار بار فیصلے نہ ہونے سے پارٹی رہنما اور کارکنان سخت مایوسی اور تذبذب کا شکار ہیں۔
ادھر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر نے بھی پیپلز پارٹی کی جانب سے پیش کردہ کسی بھی حکومتی تبدیلی یا نئی اتحادی حکومت کے قیام میں حمایت سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اس صورتحال میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نہ تو حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے اور نہ ہی اپوزیشن میں جانے کا کوئی واضح فیصلہ کر سکی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے وزراء بدستور اپنی اپنی وزارتوں پر قائم ہیں۔
یاد رہے کہ مہاجرین اور خصوصی نشستوں سے منتخب ہونے والے 4 وزراء نے ایکشن کمیٹی سے طے شدہ معاہدے کے تحت رضاکارانہ طور پر استعفے دے دیے ہیں۔ ان وزراء کو ڈی نوٹیفائی کیے جانے سے قبل ہی مستعفی کر دیا گیا، جب کہ مزید مہاجرین وزراء کے استعفوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق معمول کے مطابق حکومتی امور انجام دے رہے ہیں۔ وہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھی شریک ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تاحال اپنے منصب پر فعال اور وفاقی سطح پر بھی رابطے میں ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف محاذ بنانے کی کوششیں وقتی طور پر دم توڑ چکی ہیں، اور اگر پیپلز پارٹی کوئی نئی حکمت عملی نہ اپنائے تو موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے کی طرف بڑھ سکتی ہے۔




