مظفرآباد(اوصاف نیوز)سابق وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے رہنما سردار تنویر الیاس نے کہا ہے کہ آزادکشمیر کی 78سالہ سیاسی تاریخ میں ایسے حالات کبھی بھی نہیں تھے ،جو پچھلے ڈیڑھ سال میں آزادکشمیر میں حالات خراب ہوئے ہیں ،آزادکشمیر میں اس وقت چھ سات آئینی عہدے ہیں جن پر کوئی سربراہ مقرر نہیں کئے گئے
،آزادکشمیر میں کوئی محکمہ نہیں بچا ہے، آزادکشمیر کی پولیس نے کبھی ہڑتال نہیں کی لیکن پولیس بھی سڑکوں پر آئی،آزادکشمیر کے ڈاکٹر سڑکوں پر ہیں اور آزادکشمیر کا عام آدمی بھی سراپا احتجاج ہے۔
سابق وزیراعظم آزادکشمیر کاکہناتھا کہ چودھری انوارالحق دعویٰ کر رہے تھے کہ اسمبلی میں قائد ایوان لانے کیلئے آپ کواسمبلی کے اندر 27 لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے،جو پارٹی اپنے 27ارکان ثابت کردے وہ اپنا قائدایوان منتخب کر سکتی ہے
،ان کا دعویٰ تھا کہ ایک چائے پر جب آپ 27لوگوں کا فوٹو ہمارے ساتھ شیئر کریں گے تو میں اپنی چارد اٹھا کر گھر چلا جاؤں گا، پیپلزپارٹی نے اپنے 27ارکان ظاہر بھی کردیئے ہم امید کررہے تھے کہ وہ خود مستعفی ہو جائیں گے لیکن ابھی تک انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا۔
پی پی رہنما کامزید کہناتھا کہ میرا خیال ہے چودھری انوارالحق اس پوزیشن نہیں رہے کہ وہ کوئی مذاکرات کر سکیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی قائد ایوان کیلئے سادہ اکثریت ثابت کرچکی ہے۔
ان کاکہناتھا کہ وزیراعظم شہبازشریف نے راجہ پرویز اشرف اور قمر زمان کائرہ سے کہا تھا کہ ہم آپ کو ووٹ دے سکتے ہیں لیکن ہم وزارتیں نہیں لیں گے،پیپلزپارٹی کو اس وقت ووٹ کی ضرورت نہیں ہے،وزیراعظم کی جانب سے پیپلزپارٹی کی حمایت کا ااعلان کیا گیا ہے،ان کاکہنا ہے کہ پیپلزپارٹی اسمبلی کے اندر بڑی سیاسی جماعت ہے اس کو حکومت بنانی چاہئے۔
سردار تنویر الیاس کاکہناتھا کہ آزادکشمیر انتشار کی طرف جا رہا ہے وہاں پر سیاسی نظام کو بحال کرنا بہت ضروری ہے،ہماری قیادت نے کل آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلایا ہے،ہو سکتا ہے وہ ہمیں بتایا کہ عدم اعتمادم کی تحریک کب پیش کرنی ہے،چودھری انوارالحق نے تو جانا ہے وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ ان سے مذاکرات کئے جائیں۔
مزید پڑھیں: پارا چنار حملہ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی

