تہران ( اوصاف نیوز)ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پیر کو کہا کہ جب تک واشنگٹن اسرائیل کی حمایت جاری رکھے گا ایران اور امریکہ کے درمیان تعاون ممکن نہیں ہو گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے تعلقات اس صورت میں بھی ممکن نہیں جب تک وہ مشرق وسطیٰ میں فوجی اڈے برقرار رکھے اور علاقائی معاملات میں مداخلت جاری رکھے۔
خامنہ ای کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ “امریکی بعض اوقات کہتے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن جب تک امریکا اسرائیل کی حمایت جاری رکھے گا، اپنے فوجی اڈے برقرار رکھے گا اور خطے میں مداخلت کرتا رہے گا، ایران کے ساتھ تعاون ممکن نہیں ہے۔”
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اکتوبر میں کہا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے جب کہ تہران بھی تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ دوستی اور تعاون کے ہاتھ کھلے ہیں۔
واضح رہے کہ جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ ہوئی تھی۔ جس میں امریکہ نے بھی مداخلت کی اور ایران کے اہم ایٹمی مراکز پر حملے کئے۔
تاہم آج بھی مذاکرات میں کئی سنگین رکاوٹوں کا سامنا ہے جن میں سب سے اہم ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی کا مسئلہ ہے۔ مغربی طاقتیں ایٹمی ہتھیار بنانے کے کسی بھی خطرے کو ختم کرنے کے لیے اس عمل کو صفر پر لانا چاہتی ہیں لیکن تہران نے اس مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں:سوشل میڈیا پر دولت ظاہر کرنے والے نان فائلرز کی فہرستیں تیار




