اسلام آباد( ویب ڈیسک) امریکی محکمۂ خارجہ نے نئی ہدایات جاری کی ہیں جن کے مطابق ایسے غیر ملکی شہری جنہیں مزمن بیماریوں جیسے ذیابیطس یا موٹاپا لاحق ہو، انہیں امریکی ویزا یا مستقل رہائش ( گرین کارڈ) سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ یہ ہدایات ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی ہیں اور دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو بھیج دی گئی ہیں۔
نئی ویزا انکار کی وجوہات
محکمۂ خارجہ کی نئی گائیڈ لائنز کے مطابق، ویزا افسران اب درخواست گزاروں کی دل، سانس، اعصابی، ذہنی صحت اور میٹابولک بیماریوں (جیسے ذیابیطس) کو ویزا مسترد کرنے کی ممکنہ وجوہات میں شامل کر سکتے ہیں۔ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی درخواست گزار کو ایسی بیماری ہے جس کے علاج پر زیادہ خرچ آتا ہے اور وہ مستقبل میں حکومتی مالی امداد کا محتاج ہو سکتا ہے، تو اسے ویزا دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔
خاندان کی صحت بھی زیرِ غور
نئی ہدایات میں درخواست گزار کے اہلِ خانہ کی صحت کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ ویزا افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر درخواست گزار کے کسی انحصار کرنے والے فرد میں مزمن بیماری یا معذوری ہو جو درخواست گزار کی مالی خود کفالت یا کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتی ہو، تو اسے بھی فیصلے میں شامل کیا جائے۔
پالیسی میں تبدیلی
اب تک امریکی ویزا درخواستوں میں صرف متعدی امراض، ویکسینیشن اور ذہنی صحت کے مخصوص پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا تھا، لیکن نئی پالیسی کے تحت غیر متعدی مگر طویل المعیاد بیماریوں کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ اس سے ویزا افسران کو زیادہ صوابدیدی اختیار مل سکتا ہے، جس کے باعث خدشہ ہے کہ یہ فیصلے ثقافتی یا ذاتی تعصب کی بنیاد پر بھی کیے جا سکتے ہیں۔
قانونی اور اخلاقی خدشات
امریکی امیگریشن اور عوامی صحت کے ماہرین نے اس نئی پالیسی پر شدید تنقید کی ہے۔ سینئر اٹارنی چارلس وہیلر نے کہا کہ یہ پالیسی غیر سائنسی اندازوں اور تعصبات پر مبنی فیصلوں کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی پروفیسر صوفیہ جینویس نے اسے اخلاقی اور انسانی حقوق کے سنگین مسائل سے جوڑتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا، اور کہا کہ اس سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں جو عام مگر دائمی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔
طبی معائنہ لازمی رہے گا
امریکی ویزا کے لیے درخواست گزاروں کو اب بھی سفارت خانے کے منظور شدہ معالج سے طبی معائنہ کرانا ہوگا، جس میں متعدی امراض، ذہنی صحت، منشیات کے استعمال اور ویکسینیشن کی جانچ شامل ہے۔ تاہم، نئی ہدایات کے تحت مزمن بیماریوں اور ان کے طویل مدتی علاج کے مالی بوجھ کو بھی ویزا فیصلے کا حصہ بنایا جائے گا۔
مزید پڑھیں:
پاکستان نے جنوبی افریقہ کو شکست دیدی

