اسلام آباد (اوصاف نیوز)آئین ایک ملک کا بنیادی قانون ہوتا ہے جو اس کے سیاسی نظام، حکومت کی ساخت اور شہریوں کے حقوق کو متعین کرتا ہے۔ اس میں ترمیم کے لیے عام طور پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں، ترمیم کے عمل کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں قانون سازی کی منظوری ضروری ہے۔
یہ کسی ملک کا اعلیٰ ترین قانون ہے جو حکومت، ریاست اور بنیادی حقوق کا تعین کرتا ہے۔
یہ پاکستان کے لیے آئین 1973 ہے، جو ملک کے نظام، سیاسی کلچر اور قوانین کی رہنمائی کرتا ہے۔
اس میں حکومت کے تینوں شعبوں (ایوانِ بالا، ایوانِ زیریں اور عدلیہ) کے لیے قوانین اور اختیار وضع کیے گئے ہیں۔
آئین صدر کے اختیارات، ریاست کی شکل (وفاقی پارلیمانی جمہوریہ) اور دیگر بنیادی امور کی وضاحت کرتا ہے۔
آئین میں ترمیم کیسے ہوتی ہے؟
قانون سازی: آئین میں ترمیم کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی منظوری درکار ہوتی ہے۔
دو تہائی اکثریت: ترمیم کے بل کو دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت سے منظور ہونا ضروری ہے۔
خصوصی عمل: یہ عام قانون سازی کے عمل سے زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں آئین کی بنیاد کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کی وضاحت پارلیمنٹ کے ایوان زیریں (قومی اسمبلی) اور ایوان بالا (سینیٹ) میں دو تہائی اکثریت سے منظوری کے بعد ہوتی ہے۔
مثال: 1973 کے بعد سے آئین میں کئی ترامیم کی جا چکی ہیں، جن میں 18 ویں ترمیم بھی شامل ہے جو صدر کے اختیارات کو کم کرتی ہے۔
مزید پڑھیں:
پی ٹی آئی کیخلاف عدالت کا بڑا فیصلہ !
