Search
Close this search box.
هفته ,06 جون ,2026ء

سدھو موسی والاقتل کیس میں اہم پیشرفت ،مرکزی ملزم دہلی پہنچتے ہی گرفتار

انڈیا (ویب ڈیسک)بدنامِ زمانہ گینگسٹر انمول بشنوئی، پنجاب میں مطلوب دو فرار ملزمان اور 197 غیر قانونی طور پر مقیم افراد شامل ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انمول بشنوئی، گینگ لیڈر لارنس بشنوئی کا چھوٹا بھائی ہے، جس پر بھارت میں متعدد سنگین مقدمات درج ہیں

، جن میں سابق بھارتی وزیر بابا صدیق ،سدھو موسی والا کے قتل اور سلمان خان کے گھر پر فائرنگ شامل ہیں۔ انمول نے اپریل 2022 میں جعلی پاسپورٹ کے ذریعے ملک سے فرار ہو کر امریکا اور کینیڈا کے درمیان جعلی دستاویزات پر سفر کیا۔

امریکی حکام نے گزشتہ سال کیلیفورنیا میں انمول بشنوئی کو پکڑ کر الیکٹرانک اینکل مانیٹر کے تحت نگرانی میں رکھا، اور اب اسے لویزیانا سے ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بابا صدیق کے خاندان نے امریکی حکام کے سامنے قانونی درخواست دائر کی تھی، اور انمول کی ملک بدری کے بعد ان کے اہل خانہ نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دہلی پہنچتے ہی اسے گرفتار کیا جائے۔

کینیڈا نے گذشتہ دنوں انڈیا کے بشنوئی گینگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ملک بھر میں اس گروہ سے منسلک بینک اکاؤنٹس اور جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔

کینیڈا کے وفاقی وزیر برائے پبلک سیفٹی نے پیر کو اس اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ بشنوئی گینگ نے کینیڈا کی تارکین وطن کمیونٹیز میں خوف اور خطرے کا ماحول پیدا کیا ہے۔

گذشتہ سال کینیڈا کی پولیس نے الزام لگایا تھا کہ انڈین حکومت کے ایجنٹ بشنوئی گینگ کے ارکان کو کینیڈا میں ’قتل، بھتہ خوری اور پرتشدد کارروائیوں‘ کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور خالصتان تحریک کے حامیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

انڈیا نے اس وقت اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ کینیڈا نے اپنے الزامات کے حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔

پبلک سیفٹی کے وزیر گیری آنند سنگری نے ایک بیان میں کہا کہ ’بشنوئی گینگ کی طرف سے دہشت گردی، تشدد اور دھمکیوں کے ساتھ مخصوص کمیونٹیز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

’دہشت گردوں کے اس گروہ کی فہرست سازی ہمیں ان کے جرائم کا مقابلہ کرنے اور ان کو روکنے کے لیے زیادہ طاقتور اور مؤثر ہتھیار فراہم کرتی ہے۔‘

کینیڈا نے انڈیا سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ گینگسٹر لارنس بشنوئی کی سربراہی میں چلنے والے بشنوئی گینگ کو ایک بین الاقوامی مجرمانہ تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا مزید کہا ہے کہ یہ گروہ بنیادی طور پر انڈیا سے باہر کام کرتا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ اس گروہ کی کینیڈا میں بھی موجودگی ہے اور وہ ان علاقوں میں سرگرم ہے جہاں تارکین وطن کی اہم کمیونٹیز آباد ہیں۔
مزید پڑھیں:میٹرک امتحانات کے نتائج کا اعلان

یہ بھی پڑھیں