اسلام آباد (اوصاف نیوز) ملکی معاشی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے دیگر شعبوں کے ساتھ تنخواہ دار طبقے پر بھی بھاری ٹیکس عائد کیا تھا، اور عمومی تاثر یہی پایا جاتا تھا کہ سب سے زیادہ ٹیکس تنخواہ دار طبقہ ہی ادا کرتا ہے۔ تاہم ایف بی آر کے تازہ ریکارڈ نے اس تصور کی نفی کر دی ہے۔
قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی تفصیلات کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران تنخواہ دار طبقے سے 498 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا، جبکہ اسی عرصے میں مجموعی ٹیکس وصولی 11 ہزار 747 ارب روپے رہی۔
سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شعبےکون سے ہیں؟
ایف بی آر کے مطابق مالی سال 2024-25 میں بینکنگ سیکٹرنے 1,127 ارب روپے ٹیکس دیا۔ اسی طرح پیٹرولیم سیکٹر سے 1,121 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔ اس کے بعد تیسرا نمبرپاور سیکٹرکا ہے جس سے 858 ارب روپےٹیکس کی مد میں وصول کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ریٹیلرز و ہول سیلرزسے 693 ارب روپےٹیکس کی وصولی کی گئی اور تنخواہ دار طبقےسے 498 ارب روپےٹیکس جمع کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق بینکنگ اور پیٹرولیم سیکٹر ٹیکس ادائیگی میں سرفہرست رہے، دونوں شعبوں نے مشترکہ طور پر 2,248 ارب روپے سے زائد قومی خزانے میں جمع کرائے، جو مجموعی ٹیکس آمدن کا 19.1 فیصد بنتا ہے۔
مجموعی ٹیکس وصولی کی تفصیل
گزشتہ مالی سال میں چار بڑے ٹیکس ہیڈز کے تحت مجموعی وصولی یہ رہی:
انکم ٹیکس کی مد میں 5,794 ارب روپےوصول کیے گئے۔ سیلز ٹیکس کی مد میں 3,901 ارب روپےوصول کیے گئے۔فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 767 ارب روپےجمع ہوئے اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 1,285 ارب روپےجمع ہوئے۔
ایف بی آر کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ اگرچہ تنخواہ دار طبقہ اہم حصہ ڈال رہا ہے، مگر بڑے معاشی شعبے ٹیکس کی مد میں اس سے کہیں زیادہ رقم قومی خزانے میں جمع کروا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:فلم سٹا رنورا فتیحی بارے اہم انکشافات

