Search
Close this search box.
جمعرات ,23 جولائی ,2026ء

پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ، مشترکہ دفاع اور سلامتی کا اہم عزم دہرایا گیا

اسلام آباد: پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جس کے تحت پاکستان اور سعودی عرب نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کسی بھی ایک ملک کے خلاف ہونے والی جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر گزشتہ سال 17 ستمبر کو دستخط کیے گئے تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور علاقائی امن و سلامتی کو فروغ دینا تھا۔

معاہدے کے مطابق اگر پاکستان یا سعودی عرب میں سے کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کی جاتی ہے تو اسے دونوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس شق کا مقصد مشترکہ دفاعی تعاون کو مؤثر بنانا اور ممکنہ خطرات سے مل کر نمٹنا ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی، برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات موجود ہیں۔ دونوں ممالک نے مشترکہ مفادات، دفاعی تعاون اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے اس معاہدے کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

اس معاہدے سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی، جس میں دوطرفہ تعلقات، دفاع، سرمایہ کاری اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ آصف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بھی شریک تھے۔

سعودی عرب پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف کا شاہی پروٹوکول کے تحت استقبال کیا گیا تھا، جبکہ سعودی فضائیہ کے ایف-15 لڑاکا طیاروں نے ان کے طیارے کو فضائی حفاظت فراہم کرتے ہوئے ایئر بیس تک اسکارٹ کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ دفاعی معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو مزید مستحکم کرتا ہے بلکہ خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ دفاعی حکمت عملی کو بھی نئی تقویت دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں