Search
Close this search box.
جمعرات ,23 جولائی ,2026ء

ایران کا رد عمل، ٹرمپ کی دھمکی پر تہران کا سخت اور دوٹوک مؤقف

تہران: ایران کا رد عمل سامنے آ گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات کے بعد ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ ملک کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی یا جارحیت کا فوری، بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کسی بھی حملے کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر ایران یا اس کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا جواب پوری طاقت کے ساتھ دیا جائے گا۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت میں تعاون کرنے والے عناصر بھی قانونی اہداف تصور کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق تہران اپنے دفاع کے حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو اپنے اقدامات کی بھاری قیمت چکانا ہوگی اور اگر ضرورت پڑی تو فوجی کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر فوجی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ ایران میں پلوں، بجلی گھروں یا دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے تو ایران بھی خطے میں امریکی مفادات اور اہم انفراسٹرکچر پر جوابی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن، توانائی کی منڈیوں اور عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی غلط اندازے سے خطے میں مزید تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں