اسلام آباد: موبائل ڈیٹا خریدنے کا فراڈ تیزی سے بڑھنے لگا ہے، جس پر سائبر سیکیورٹی کمپنی کاسپرسکی نے صارفین کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں دھوکے باز جعلی ٹیلی کام کمپنیوں کی ویب سائٹس بنا کر لوگوں کی ذاتی اور بینکاری معلومات چوری کر رہے ہیں۔
کاسپرسکی کے مطابق سیاحتی سیزن میں موبائل انٹرنیٹ اور مواصلاتی خدمات کی طلب بڑھنے کے ساتھ ہی سائبر جرائم پیشہ افراد بھی متحرک ہو جاتے ہیں۔ فراڈیے معروف علاقائی اور بین الاقوامی ٹیلی کام کمپنیوں سے مشابہ جعلی ویب سائٹس تیار کرتے ہیں، جہاں صارفین کو لاگ اِن، سم رجسٹریشن یا ڈیٹا پیکج خریدنے کے بہانے اپنی معلومات درج کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔
کمپنی کے ماہرین نے متعدد ایسے جعلی صفحات کی نشاندہی کی ہے جو اصل ویب سائٹس سے انتہائی مشابہ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے عام صارف کے لیے اصلی اور جعلی ویب سائٹ میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کوئی صارف ان جعلی ویب سائٹس پر اپنا فون نمبر، پاس ورڈ، بینک کارڈ یا ادائیگی سے متعلق معلومات درج کر دیتا ہے تو اسے مالی نقصان، ذاتی معلومات کی چوری، اکاؤنٹ ہیک ہونے، اسپام کالز اور آن لائن فراڈ جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کاسپرسکی نے بتایا کہ بعض فراڈیے جعلی بل چیک کرنے، بقایا ادائیگی یا موبائل ڈیٹا ری چارج کی آفر دے کر بھی صارفین کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد ذاتی معلومات حاصل کرکے بعد میں مالی فراڈ یا اکاؤنٹس تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنا ہوتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر تاتیانا کولیکووا کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے اب دھوکے باز پہلے سے زیادہ حقیقت سے قریب جعلی ویب سائٹس چند ہی منٹوں میں تیار کر سکتے ہیں، جس سے خطرات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
انہوں نے صارفین کو مشورہ دیا کہ موبائل یا انٹرنیٹ پیکج خریدنے سے پہلے ویب سائٹ کا ایڈریس ضرور چیک کریں، ڈومین نام میں معمولی تبدیلی، اضافی حروف یا املا کی غلطیوں پر توجہ دیں اور ای میل یا میسج میں موصول ہونے والے مشکوک لنکس پر ہرگز کلک نہ کریں۔
کاسپرسکی نے یہ بھی تجویز دی کہ جہاں ممکن ہو، صرف سرکاری ایپلی کیشن کے ذریعے eSIM استعمال کریں، کیونکہ اس طریقے میں غیر مصدقہ ویب سائٹس پر ذاتی معلومات درج کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس کے علاوہ مضبوط اینٹی فشنگ سیکیورٹی سافٹ ویئر استعمال کرنا بھی آن لائن فراڈ سے محفوظ رہنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

