اسلام آباد(نیوز ڈیسک)دفترخارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گے جب کہ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی امن کیلیے بھی خطرہ ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کی بھی مذمت کرتا ہے۔ اور عالمی بحری راستوں کی سلامتی، آزادانہ آمدورفت اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو ناگزیر سمجھتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تجارتی جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات پر کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور دفاع کیا جائے گا۔ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں اور مذاکرات کی حمایت کرتا رہے گا۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ ایرانی وزیر داخلہ کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران وزیر اعظم، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل سے ملاقاتوں میں پاک ایران تعلقات، سرحدی سیکیورٹی، معاشی تعاون اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے مشترکہ سرحدی انتظام مزید مضبوط بنانے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گا اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے پر تشویش برقرار ہے۔ طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوششوں جبکہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت بھی جاری رکھے گا، جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین نے اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ منیلا میں آسیان اجلاس کی سائیڈ لائنز پر پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ نے ملاقات میں تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ ایرانی وزیر داخلہ کا دورہ اہم سفارتی روابط کا حصہ ہے۔ اور پاک امریکا تجارتی مذاکرات جاری ہیں تاہم پاک امریکا تجارتی مذاکرات اور ٹیرف کا معاملہ طے نہیں ہوا۔ ٹیرف اور چائلڈ لیبر کے معاملے پر امریکا کو مؤقف سے آگاہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کارگل جنگ کا معاملہ تاریخ کا حصہ ہے۔ اور سرتاج عزیز کی کارگل کے حوالے سے کتاب بہترین ہے۔
مزید پڑھیں۔قومی ٹیم آئندہ سال 5 ون ڈے میچز کی سیریز کیلئے انگلینڈ کا دورہ کریگی



