اسلام آباد (اوصاف نیوز) پاکستان سے سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کے تحت آئندہ سال حج پر جانے والوں کے لیے حج تربیت کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
پرائیویٹ حج ٹور آپریٹرز کی کڑی نگرانی کی جائے گی اور شکایات کی صورت میں انہیں بھاری جرمانے کے ساتھ بلیک لسٹ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق روڈ ٹو مکہ حج کی سہولت اسلام آباد اور کراچی ایئرپورٹس پر دستیاب ہوگی اور عازمین کو حج سے متعلق مکمل تربیت دی جائے گی جس میں لاجسٹک، حج کا طریقہ کار، لباس اور دیگر امور شامل ہوں گے۔
ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں بنائی جائیں گی، مالیاتی نگرانی کا موثر نظام نافذ کیا جائے گا، حج ناظم سکیم شروع کی جائے گی اور شکایات کے ازالے کے لیے شفاف نظام متعارف کرایا جائے گا۔ سرکاری سکیم کے تحت 1 لاکھ 19 ہزار 210 عازمین حج کی سعادت حاصل کر سکیں گے جبکہ پرائیویٹ سکیم کے تحت 60 ہزار عازمین حج کی سعادت حاصل کر سکیں گے۔
سرکاری حج سکیم 38 سے 42 دن کا روایتی طویل پیکج اور 20 سے 25 دن کا مختصر پیکیج فراہم کرے گی جبکہ سعودی عرب سے منظور شدہ ویکسینیشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:صائمہ نور کا ساحر علی بگا کی نئی میوزک ویڈیو ’مستانی‘ میں رقص




