لاہور (اوصاف نیوز) پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی تمام فرنچائزز کو اگلے 5 ایڈیشنز کے لیے مرکزی آمدنی سے کم از کم 850 ملین روپے فی ایڈیشن کی ضمانت دی ہے۔ اس فیصلے پر عمل درآمد 2026 میں کھیلے جانے والے پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن سے ہوگا۔
پی سی بی اور فرنچائزز کے درمیان معاہدے کی شق 6.4 کے مطابق اگر کسی بھی فرنچائز کا حصہ کسی بھی ایڈیشن میں مقررہ 850 ملین روپے سے کم ہوتا ہے تو پی سی بی اس کمی کو پورا کرے گا۔
معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر سنٹرل پول سے حاصل ہونے والی آمدنی گارنٹی شدہ رقم سے کم ہے تو بورڈ فرق ادا کرنے کا پابند ہوگا۔ اس شق کے بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی جیسی فرنچائزز کے ممکنہ مالی نقصان کا خدشہ واضح طور پر کم ہوگیا ہے کیونکہ ان کی فرنچائز فیس کراچی کنگز، لاہور قلندرز اور ملتان سلطانز سے کم ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی مالیت 360 ملین روپے، پشاور زلمی کی 480 ملین روپے، اسلام آباد یونائیٹڈ کی 490 ملین روپے، کراچی کنگز کی 650 ملین روپے، لاہور قلندرز کی 670 ملین روپے جبکہ ملتان سلطانز کی مالیت 1.8 ارب روپے ہے۔
دوسری جانب پی ایس ایل میں شامل ہونے والی دو نئی ٹیموں کی بیس پرائس 1.3 ارب روپے رکھی گئی ہے اور ان کی نیلامی 8 جنوری کو اسلام آباد میں ہوگی۔
تمام فرنچائزز کو کم از کم 1.4 ملین ڈالر خرچ کرنے ہوں گے، بشمول کھلاڑیوں کی فیس، رہائش اور سفر، جس سے مہنگی فرنچائزز کی کل لاگت گارنٹی شدہ رقم کے قریب پہنچ جاتی ہے۔
فرنچائزز کے اخراجات میں اس تفاوت کو پہلے ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے پی ایس ایل کے مالیاتی ماڈل پر اعتراضات کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا تھا جس کے بعد پی سی بی نے سلطانز کی سابقہ ملکیت کی تجدید نہیں کی تاہم باقی پانچ فرنچائزز کی ملکیت برقرار رکھی گئی۔
معاہدے کے مطابق سینٹرل پول کی آمدن کا 95 فیصد فرنچائزز میں مساوی طور پر تقسیم کیا جائے گا جبکہ باقی 5 فیصد پی سی بی اپنے پاس رکھے گا۔ شق 6.5 کے تحت 50 فیصد رقم ٹورنامنٹ کے 2 ماہ بعد، 40 فیصد 4 ماہ کے بعد اور بقیہ 10 فیصد 9 ماہ کے بعد یا آڈٹ مکمل ہونے پر ادا کی جائے گی۔
مزید پڑھیں:موٹروے ایم 11 دھند کے باعث بند


