Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد

اسلام آباد (اوصاف نیوز)وفاقی حکومت نے وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے پیر کو متعارف کرائی گئی نئی موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-33 کے تحت استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

یہ پالیسی انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) نے مقامی موبائل فون بنانے والی کمپنیوں کے اشتراک سے تیار کی ہے، جس کا مقصد عالمی برانڈز کو راغب کرنا اور بھارت، ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے ماڈلز کی طرز پر مقامی مینوفیکچرنگ کے ذریعے برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

پالیسی ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں پیش کی گئی، جس کی صدارت وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کی۔ اجلاس میں پالیسی کے مقاصد، عملدرآمد کے فریم ورک اور پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں مکمل درآمدات کے مقابلے میں مقامی اسمبلنگ کے فوائد کا تقابلی جائزہ بھی شامل تھا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد مقامی روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔

پالیسی فریم ورک کے تحت لازمی برآمدی اہداف کو غیر مؤثر قرار دیا گیا ہے اور اس حوالے سے آٹو سیکٹر کی مثال دی گئی ہے۔ برآمدات کے لیے معیار کی تصدیق (کوالٹی سرٹیفیکیشن) کو لازمی قرار دیا گیا ہے، تاہم اسے جبر کے ذریعے نافذ کرنے کی سفارش نہیں کی گئی۔ پالیسی میں سرکاری سطح پر مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کے قیام پر بھی زور دیا گیا ہے۔

پالیسی میں کارکردگی سے منسلک سزاؤں کی تجویز دی گئی ہے اور ای ڈی بی کو ہدایت کی گئی ہے کہ اسمبلنگ کے لیے کم از کم پرزہ جات کی شرائط طے کرے۔ اس کے تحت اسمارٹ فونز کے لیے ایس کے ڈی کِٹ میں 40 پرزے جبکہ فیچر فونز کے لیے 15 پرزے لازمی ہوں گے۔ ویلیوایشن رولنگز کو ادارہ جاتی شکل دینے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں ای ڈی بی، پاکستان موبائل فون مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی ایم پی ایم اے) اور کسٹمز ویلیوایشن ڈائریکٹوریٹ کی شمولیت ہوگی۔

انڈر انوائسنگ کی روک تھام کے لیے مکمل طور پر تیار موبائل فونز (سی بی یو) اور مقامی طور پر تیار کردہ موبائل فونز کو سیلز ٹیکس کے تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ برآمدی اہداف کو ٹیکس انکریمنٹ فنانسنگ (ٹی آئی ایف) کے نفاذ سے براہِ راست منسلک کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

پالیسی میں سی بی یو اور ایس کے ڈی درآمدات کے درمیان کم از کم 30 فیصد ٹیرف فرق مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ٹیکس انکریمنٹ فنانسنگ لیوی کے اطلاق کو سی بی یو اور ایس کے ڈی دونوں درآمدات تک بڑھانے کی بات بھی کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ای ویسٹ مینجمنٹ کو ایک پیچیدہ مسئلہ قرار دیا گیا ہے، جس کے لیے محتاط حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ پالیسی مرحلہ وار لوکلائزیشن کو اپنائے گی تاکہ ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو اور پائیدار صنعتی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ پالیسی میں مدر بورڈز، پی سی بیز، الیکٹرانک پرزہ جات اور ڈسپلے کمپوننٹس سمیت اہم اجزا کی مقامی تیاری پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کو عالمی برانڈز کے لیے ایک برآمدی مرکز بنانے اور عالمی ویلیو چینز میں شامل کرنے کے خواہاں ہیں۔ اجلاس کو موبائل فون مینوفیکچررز نے آگاہ کیا کہ سام سنگ، شیاؤمی، اوپو، ویوو، نوکیا اور دیگر معروف عالمی برانڈز نئی پالیسی کے تحت ممکنہ سرمایہ کار ہیں۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موبائل سیکٹر کی ترقی دیگر الیکٹرانک صنعتوں پر مثبت اثر ڈالے گی اور مجموعی صنعتی ترقی میں مددگار ثابت ہوگی۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ یہ پالیسی بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک برآمدات پر مبنی اور عالمی سطح پر مسابقتی صنعتی فریم ورک متعارف کرائے گی۔

پالیسی کے تحت سخت عملدرآمد کے طریقہ کار نافذ کیے جائیں گے۔ لوکلائزیشن اہداف، رپورٹنگ تقاضوں یا آپریشنل ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی صورت میں مراعات واپس لے لی جائیں گی اور سزائیں عائد کی جائیں گی، جبکہ عدم تعمیل پر درآمدی لائسنس کی معطلی اور مالی جرمانے بھی لگائے جا سکتے ہیں۔

موبائل فون بنانے والی کمپنیوں نے برآمدات کے لیے معیار کی تصدیق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مقامی ٹیسٹنگ اور سرٹیفیکیشن لیبارٹریوں کے قیام کی سفارش کی تاکہ عالمی معیار پر پورا اترا جا سکے۔

آخر میں ہارون اختر خان نے سرکاری اور نجی شعبے کے تمام فریقین کو ہدایت کی کہ پالیسی کے مؤثر نفاذ اور پاکستان کے برآمدات پر مبنی ترقی اور صنعتی تبدیلی کے اہداف کے حصول کے لیے باہمی تعاون کو یقینی بنایا جائے۔

اجلاس میں سیکریٹری صنعت و پیداوار سیف انجم، ای ڈی بی کے سی ای او حامد منصور اور پاکستان موبائل فون مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں:سونا ہزاروں روپے مہنگا ہو گیا

یہ بھی پڑھیں