اسلام آباد (اوصاف نیوز)مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سینیٹر ناصر بٹ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاست میں بدامنی، قانون شکنی اور ہنگامہ آرائی شامل ہے، اور کراچی میں ہونے والا واقعہ اسی رویے کا تسلسل ہے۔
اے بی این نیوز کے پروگرام ’’تجزیہ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ناصر بٹ کا کہنا تھا کہ انہوں نے دو روز قبل ہی پیش گوئی کی تھی کہ پی ٹی آئی کراچی جا کر فساد کرے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے جلسے کے لیے جگہ، مہمان نوازی اور سیکیورٹی فراہم کی، اس کے باوجود پی ٹی آئی کارکنوں نے ہنگامہ آرائی کی، پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا اور امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کی طرح کراچی میں بھی امن خراب کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ پیپلز پارٹی نے مکمل تعاون کیا۔ ناصر بٹ کے مطابق پی ٹی آئی کا کوئی ایک جلسہ ایسا نہیں جسے پُرامن قرار دیا جا سکے، بدتمیزی، گالم گلوچ اور الزامات کو ان کی جماعت میں اچھا کارکن سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث عناصر کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے ہے اور عوام بڑی تعداد میں جماعت کو چھوڑ چکے ہیں۔
ناصر بٹ نے مزید کہا کہ سندھ میں جلسے کی اجازت کے باوجود سڑکیں بند کی گئیں، گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا اور پولیس پر تشدد کیا گیا۔ ان کے بقول عوام کو جلسے میں آنے سے روکنے کے الزامات بے بنیاد ہیں اور بدنظمی پی ٹی آئی کا اصل چہرہ ہے۔
دوسری جانب، پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے مجموعی طور پر جمہوری رویہ اپنایا اور سیاسی اختلاف کے باوجود آئینی و جمہوری حق دیا، جس پر وہ شکر گزار ہیں۔
ہمایوں مہمند کا کہنا تھا کہ حیدرآباد کے معاملے پر غلط فہمی پیدا ہوئی، پولیس اسکواڈ کے باوجود واپسی میں سات گھنٹے لگے اور جلسے کے دن صبح مقام سے متعلق آگاہ کیا گیا، جس کی وجہ سے انتظامات میں مشکلات پیش آئیں۔ انہوں نے کہا کہ جلسے کے لیے انتظامات ایک دن پہلے موبلائز کرنا ضروری ہوتا ہے، جبکہ راستوں میں کنٹینرز لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی جگہ پر جمع ہونا بذاتِ خود جرم نہیں، جرم اس وقت بنتا ہے جب سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جائے یا تشدد کیا جائے۔ ان کے مطابق آنسو گیس سے بچاؤ کا سامان رکھنا جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔ ہمایوں مہمند نے کہا کہ دوسرے صوبے میں بڑا عوامی اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ جلسے میں شرکت حقیقی تھی۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ سیاست میں طالب علمی سے آ کر آگے بڑھنا کچھ لوگوں کو ناگوار گزرتا ہے، جبکہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اداروں پر تنقید کی مثالیں ماضی میں بھی موجود رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر الزامات لگانا دوہرا معیار ہے اور سیاسی تاریخ کو سیاق و سباق میں دیکھنا ضروری ہے۔
تیسری جانب،رہنما پیپلزپارٹی اخوانزادہ چٹان نے کہا کہ ہر شہری کو آئین کے مطابق پرامن احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، اور حکومت نے اس حق کی مکمل ضمانت دی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے پرامن احتجاج کے لیے اجازت اور تعاون فراہم کیا، جبکہ سہیل آفریدی کو بھی پنجاب میں عزت اور معاونت دی گئی، تاہم ان کا رویہ اور پولیس کے خلاف ہنگامہ آرائی افسوسناک ہے۔
اخوانزادہ چٹان نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کو احتجاجی پلیٹ فارم مہیا کیا اور سندھ حکومت نے جلسے کی انتظامات میں بھرپور معاونت فراہم کی۔ شرکاء کے لیے کنٹینرز لگائے گئے اور راستوں کو محفوظ بنایا گیا تاکہ عوام بلا رکاوٹ جلسہ میں شرکت کر سکیں۔
رہنما پیپلز پارٹی کے مطابق سیکیورٹی اہلکار رات کے وقت بھی عوام کی نگرانی اور سرچ کرتے رہے، جبکہ جلسہ گاہ کے دور دراز چھوٹے راستے کھلے رکھے گئے تاکہ شرکاء کو سہولت فراہم ہو۔ تمام انتظامات قانون، ضابطے اور عوام کی حفاظت کے مطابق کیے گئے۔
مزید پڑھیں:اسلام آباد، بلدیاتی انتخابات التواء امیدواروں کے لاکھوں ڈوب گئے


