اسلام آباد (اوصاف نیوز) معاون خصوصی اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان نے الزام عائد کیا ہے کہ تیراہ میں آپریشن صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر مسلط کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ صوبائی کابینہ اور نہ ہی وزیر اعلیٰ نے کسی آپریشن کی منظوری دی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اصل مقصد دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانا ہے، تاہم صوبائی حکومت نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر کے اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیا۔
اے بی این نیوز کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ بیانیے کی جنگ میں صوبائی حکومت نے کامیابی حاصل کی، جس کے بعد مخالفین کو یوٹرن لینا پڑا۔ ان کے مطابق ابتدا میں آپریشن کی بات کی جاتی رہی، اب کہا جا رہا ہے کہ کوئی آپریشن نہیں ہو رہا، جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانات میں بھی آپریشن کا ذکر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے نام پر مکمل آپریشن کیا گیا اور کے پی کے عوام کو بار بار بے گھر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کو تجربہ گاہ بنایا جا رہا ہے اور سرد موسم میں ممکنہ جانی نقصان کا الزام صوبائی حکومت پر ڈالنے کی تیاری کی جا رہی تھی، تاہم بروقت اقدامات سے اس منصوبے کو ناکام بنایا گیا۔ شفیع جان کے مطابق ضربِ عضب کے بعد بھی کئی متاثرہ خاندان آج تک بے یار و مددگار ہیں اور جہاں آپریشن ہوتے ہیں وہاں عوام کو بے سہارا چھوڑ دیا جاتا ہے۔
شفیع جان نے واضح کیا کہ اتوار کو جرگہ بلایا جا رہا ہے جہاں خیبر کے عوام کے سامنے تمام حقائق رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئی بی اوز کہہ کر حقائق نہیں بدلے جا سکتے اور نام بدلنے سے زمینی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے کرم اور باجوڑ کے لیے دو، دو ارب روپے جبکہ مزید چار ارب روپے بھی جاری کیے ہیں اور آئندہ بھی فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ پہلی بار ہے کہ تاریخی سطح پر متاثرہ افراد کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور سہیل آفریدی کی قیادت میں مؤثر فیسلی ٹیشن جاری ہے۔ شفیع جان کے مطابق بعض حلقے فیسلی ٹیشن کا بوجھ صوبائی حکومت پر ڈال کر اسے گورننس کا مسئلہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم یہ بیانیہ کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حقائق تسلیم نہ کیے گئے تو اتوار کو پیدا ہونے والی صورتحال برداشت کے قابل نہیں ہوگی۔
دوسری جانب وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف وفاق اور صوبوں کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا، تاہم افسوسناک بیانیے کے ذریعے تصادم، کنفیوژن اور انارکی پھیلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے ایسے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تیراہ میں صورتحال انتہائی حساس ہے اور کسی بھی غلط فہمی کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
رانا احسان افضل کے مطابق علاقے میں کوئی بڑے پیمانے کا آپریشن نہیں ہو رہا بلکہ صرف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر اتفاق تھا، اور فیصلے صوبائی حکومت کی مشاورت سے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جرگے میں تین مختلف آپشنز پر مشاورت کی گئی اور فیصلہ لوکل کنسلٹیشن کے بعد سامنے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں ضلع خیبر اور تیراہ میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے، ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے عزائم واضح ہیں، اور بڑھتے سیکیورٹی خدشات کے باعث اقدامات ناگزیر ہو چکے تھے۔
مزید پڑھیں:آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، شہری پریشان



