لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد جہاں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے وہیں برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔
برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملوں کے بعد برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب کوئی ریاست خطے میں بلاامتیاز کارروائیاں کرتی ہے اور سویلین اور فوجی اہداف کو نشانہ بناتی ہے تو حفاظتی اقدامات میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں تعینات برطانوی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ برطانیہ کے اندر بھی سکیورٹی اور نگرانی کے اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ ہوم سیکرٹری دہشت گردی کے خطرے کی سطح میں کسی بھی ممکنہ تبدیلی کا اعلان کریں گے۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی موجودہ سطح ’کافی‘ ہے، جس کا مطلب ہے کہ حملے کا امکان ہے۔ یہ سطح فروری 2022 سے برقرار ہے، جب اسے ‘شدید’ سے کم کیا گیا تھا۔ خطرے کی سطح کا تعین مشترکہ دہشت گردی تجزیہ مرکز کرتا ہے، جو برطانوی خفیہ ایجنسی MI5 کے تحت کام کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے عالمی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور آئندہ چند روز اس حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:عید الفطر پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن سے متعلق اہم فیصلہ




