اسلام آباد(اوصاف نیوز)پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے درمیان اہم مذاکرات کے بعد 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کے حصول میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق، دونوں فریقین کے درمیان ورچوئل رابطہ قائم ہے اور آئی ایم ایف نے پاکستان کو میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز (MEFP) کا مسودہ بھجوا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اب پاکستان اور آئی ایم ایف اس مسودے کے مطابق اہداف اور کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔ MEFP کے نو ٹیبلز میں اعدادوشمار میں مماثلت پیدا ہونے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا جائے گا۔ اس دوران وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے حکام بھی آئی ایم ایف کی جانب سے مشاورت کریں گے۔
MEFP کے جائزے میں وزارت توانائی، وزارت پٹرولیم، ایف بی آر، نیب، سرکاری ملکیتی ادارے، اوگرا، نیپرا، ایس ای سی پی، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، صوبائی انتظامیہ اور زرعی آمدنی پر انکم ٹیکس کے اہداف شامل ہیں۔ وزارت خزانہ کی جانب سے MEFP ڈرافٹ تمام متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان بجٹ کی تیاری کے لیے مشاورت اپریل کے آخری ہفتے میں ہوگی، جبکہ آئی ایم ایف کا تکنیکی مشن آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری میں مکمل معاونت فراہم کرے گا۔ نئے بجٹ کی تیاری بھی آئی ایم ایف کے تخمینوں اور اہداف کے مطابق ہوگی اور اس میں وزارت خزانہ، وزارت توانائی، وزارت پٹرولیم، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ مشاورت شامل ہوگی۔
مزید براں، آئی ایم ایف وفد مئی کے وسط تک پاکستان میں قیام کرے گا تاکہ بجٹ پر مذاکرات کو حتمی شکل دی جا سکے۔یہ پیش رفت پاکستان کی معیشت میں استحکام اور بین الاقوامی مالیاتی معاونت کے حصول کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں:سعودی عرب کا ویزا ہولڈرز کیلئے اہم ریلیف کا اعلان
