Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

روس کا بڑا وار،عالمی منڈی میں پیٹرول کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) توانائی کی عالمی منڈی میں ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی، روس نے یکم اپریل 2026 سے پیٹرول کی برآمدات پر عارضی پابندی لگانے کا اعلان کردیا۔

ابتدائی طور پر یہ پابندی 31 جولائی 2026 تک برقرار رہنے کی توقع ہے۔

روسی حکام کے مطابق یہ اقدام ملک کے اندر ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ زرعی سیزن اور ریفائنری کی مرمت کے دوران پیٹرول کی طلب بڑھ جاتی ہے، اس لیے سپلائی کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

مزید برآں، بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث روس نے اپنے ذخائر کو محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاکہ ملکی مہنگائی پر قابو پایا جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

روس دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے اور اس فیصلے کے اثرات سب سے زیادہ ان ممالک پر پڑنے کا امکان ہے جو روسی تیل پر انحصار کرتے ہیں جن میں چین، ترکی، برازیل اور کئی افریقی ممالک شامل ہیں۔

اگرچہ کچھ قریبی اتحادی اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ رہا ہے،جس کا اثر دوسرے ممالک پر پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں‌:واٹس ایپ کے نئے فیچرز متعارف، دو اکاؤنٹس اور جدید سہولیات شامل

یہ بھی پڑھیں