اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی آئینی عدالت نے توہین عدالت کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئینی عدالت کو اس حوالے سے کارروائی کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے۔ اس کے لیے کسی نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں۔ عدالت نے خط میں ججز کے خلاف اعتراض اٹھانے والے درخواست گزار کو وارننگ بھی جاری کی۔
جسٹس عامر فاروق کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان کا آرٹیکل 204 آئینی عدالت کو توہین عدالت کی کارروائی کا اختیار بھی دیتا ہے۔ آئین ملک کا سپریم لا ہے، جب آئین میں واضح شق موجود ہے تو اس اختیار کے لیے الگ قانون سازی ضروری نہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ آئینی عدالت کو اپنے احکامات پر عمل درآمد اور عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوششوں کے خلاف کارروائی کا پورا اختیار ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی شخص کو عدالت کے احکامات پر عمل نہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ورنہ توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے۔
عدالت نے درخواست گزار سراج احمد کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کیس کو آئینی عدالت میں قابل سماعت قرار دے دیا۔ درخواست گزار نے اپنی ملازمت سے برطرفی کو چیلنج کیا تھا اور عدالتی حکم کے باوجود کیس دوبارہ نہ کھولنے پر توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کی تھی۔
27ویں ترمیم کے بعد یہ کیس سپریم کورٹ سے آئینی عدالت میں منتقل ہو گیا تھا۔ عدالت نے درخواست گزار کو جج کے لیے نامناسب الفاظ استعمال کرنے پر وارننگ جاری کی۔
مزید پڑھیں:ایران امریکہ مذاکرات،اسلام آباد میں شہریوں کے لیے ٹریفک ایڈوائزری جاری
