تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران امریکی ناکہ بندی کے باوجود محدود مدت تک تیل کی پیداوار جاری رکھ سکتا ہے تاہم ماہرین کے مطابق اسے چند ماہ بعد پیداوار کم کرنا پڑ سکتی ہے جس سے عالمی منڈی پر دباؤ مزید بڑھے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 13 اپریل سے امریکی اقدامات کی وجہ سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی سے ایران کی یومیہ تیل کی برآمدات تقریباً 20 لاکھ بیرل متاثر ہوئی ہیں جن میں سے زیادہ تر چین کو جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اپنی موجودہ یومیہ پیداوار جو کہ تقریباً 3.5 ملین بیرل ہے، تقریباً دو ماہ تک برآمدات کے بغیر برقرار رکھ سکتا ہے۔
ایک مشاورتی فرم کی رپورٹ کے مطابق اگر ایران یومیہ پیداوار میں 500,000 بیرل کمی کرتا ہے تو یہ مدت تقریباً تین ماہ تک بڑھ سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی زمین پر تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً 122 ملین بیرل ہے جس میں سے تقریباً 90 ملین بیرل استعمال کے لیے دستیاب ہیں۔ تاہم جب یہ ذخائر بھر جائیں گے تو پیداوار میں کمی ناگزیر ہو گی۔
دوسری جانب ایک اور تجزیاتی ادارے کے مطابق ایران کے قابل استعمال ذخائر بہت کم یعنی تقریباً 30 ملین بیرل ہیں۔ اس اندازے کے تحت ایران صرف 16 دن تک موجودہ سطح کو برقرار رکھ سکتا ہے جس کے بعد ذخائر کو بھر دیا جائے گا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ناکہ بندی مئی تک جاری رہی تو ایران کو پیداوار میں نمایاں کمی کرنا پڑ سکتی ہے جس سے تیل کی پہلے سے متاثرہ عالمی رسد میں مزید کمی آئے گی اور قیمتیں بڑھ جائیں گی۔
ایران میں مقامی ریفائنریز روزانہ تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل استعمال کرتی ہیں، جب کہ تیل کے ٹینکرز کو اضافی تیل ذخیرہ کرنے کے لیے عارضی گودام کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، تاکہ پیداوار میں کمی کو عارضی طور پر ملتوی کیا جا سکے۔
ادھر امریکی فوج کے مطابق ناکہ بندی کے دوران متعدد جہازوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے جن میں ایک چینی ملکیتی ٹینکر بھی شامل ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد سے ایران سے منسلک آٹھ آئل ٹینکرز کو روکا جا چکا ہے جب کہ خلیج عمان میں ایک امریکی جنگی جہاز نے بھی چابہار بندرگاہ سے روانہ ہونے والے دو ٹینکروں کو روک لیا۔
مزید پڑھیں:بڑی خبر،فیلڈ مارشل کی ایرانی اسپیکر سے اہم ملاقات
