اسلام آباد: ملک میں سرنجز کے غیر محفوظ اور دوبارہ استعمال پر پابندی کے باوجود قابل استعمال سرنجز کی فروخت جاری رہنے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے صحت کے شعبے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں ایسی جعلی آٹو ڈس ایبل (Auto Disable) سرنجز بھی موجود ہیں جنہیں ایک سے زائد بار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان سرنجز کی پیکنگ پر “Auto Disable” درج ہونے کے باوجود یہ دوبارہ قابل استعمال پائی گئی ہیں۔
مختلف شہروں جن میں پشاور، ملتان اور جیکب آباد شامل ہیں، سے ایسی سرنجز کے استعمال اور فروخت کی تصدیق ہوئی ہے۔ مزید یہ کہ خیبر پختونخوا کے گدون امازئی انڈسٹریل زون میں بھی ان غیر معیاری اور دوبارہ قابل استعمال سرنجز کی تیاری اور ترسیل کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض غیر رجسٹرڈ معالج (اتائی) 50 سے 100 روپے کے عوض انجکشن لگانے کے لیے ایک ہی سرنج کو بار بار استعمال کرتے ہیں، جس سے خطرناک بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ جعلی اور غیر معیاری سیفٹی سرنجز کا استعمال انفیکشن کنٹرول نظام کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنا رہا ہے، جس سے ہیپاٹائٹس اور دیگر متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
دوسری جانب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پابندی کے باوجود غیر معیاری سرنجز کی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور مارکیٹ میں نگرانی مزید سخت کی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق معاملے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور صحت عامہ کو لاحق خطرات کے پیش نظر فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:بریکنگ نیوز،2 ججز کا تبادلہ مؤخر کر دیئے گئے! بڑی سیاسی پارٹی کا دباؤ کام کر گیا،جانیے





