Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنیوالوں کیلئے خوشخبری

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت نے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنے والوں کو ریلیف فراہم کر دیا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے بیرون ملک استعمال پر ہر ٹرانزیکشن پر ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

قبل ازیں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ایوان کے سامنے بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز ہے، میں تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈر کا شکریہ ادا کرتا ہوں، تیسرا بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز ہے، بجٹ تیاری میں تعاون پر وزیراعظم اور بلاول بھٹو کا مشکور ہوں۔

محمد اونگزیب نے کہا کہ آج پوری دنیا پاکستان کی دفاعی طاقت کو مانتی ہے، بھارتی جارحیت کا پاکستانی فورسز نے بھرپور جواب دیا، بنیان مرصوص کی کامیابی ہماری تاریخ کا روشن باب ہے، بنیان مرصوص میں عظیم کامیابی پر فخر ہے، مضبوط دفاع معاشی قوت میں معاون ثابت ہوسکتا ہے، پاکستان اورسعودی کےدرمیان اسٹریٹجک معاہدہ انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے باعث دو طرفہ تعلقات کو نئی جہت ملی، دفاعی صنعت قیمتی زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بن چکی ہے، امریکہ اورایران کے درمیان پاکستان نے ثالث کا اہم کردارادا کیا، چین کے ساتھ تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہیں، پاک چین دوستی حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ اقوام کی تقدیر سے جڑا رشتہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران، امریکہ جنگ کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا، پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے سے ہر گھر کے بجٹ پر غیر متوقع بوجھ آیا، حکومت قیمتوں کا سارا بوجھ عوام پر منتقل کرتی تو قیمتیں زیادہ ہوتیں، حکومت نے پیٹرولیم قیمتوں پر عوام کو 128 ارب روپے کاریلیف دیا، ہماری معاشی شرح نمو3.7 فیصدتک پہنچ چکی ہے۔

وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سالانہ 22 سے 32 لاکھ روپے والوں کیلئے شرح 23 سے کم کر کے 20 فیصد کر دی گئی، سالانہ 32 سے 41 لاکھ روپے کمانے والوں کا ٹیکس 30 سے کم کر کے 25 فیصد کر دیا گیا۔

محمد اونگزیب نے کہا کہ پاکستان معاشی استحکام کی جانب گامزن، بجٹ 2026-27 ترقی اور عوامی ریلیف کا بجٹ ہے، حکومت نے معیشت کو بحران سے نکال کر استحکام کی راہ پر ڈالا، پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر ہوئی، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہوا، معاشی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر اور ایکسچینج ریٹ میں استحکام حاصل کیا گیا۔

بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی میں نمایاں کمی اور مالی نظم و ضبط حکومت کی بڑی کامیابی ہے، صنعتی شعبے اور بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بہتری ریکارڈ کی گئی، برآمدات اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے نئی حکمت عملی متعارف کرائی جا رہی ہے، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری عالمی اعتماد کا اظہار ہے۔

انہوں نے کہا کہ نجکاری پروگرام کو تیز کیا جا رہا ہے، قومی اداروں کی اصلاحات جاری ہیں، پی آئی اے سمیت اہم سرکاری اداروں کی نجکاری پر پیش رفت ہو رہی ہے، توانائی شعبے میں اصلاحات سے گردشی قرضے میں کمی لائی جا رہی ہے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اقدامات جاری ہیں، ٹیکس نظام میں جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ متعارف کرا دی گئی، ٹیکس چوری کی روک تھام اور شفافیت کیلئے اے آئی پر مبنی نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری کیلئے آسان اور شفاف ٹیکس نظام حکومت کی ترجیح ہے، ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت کیش لیس معیشت کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور بینکنگ صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا، نوجوانوں کیلئے ہنر، کاروبار اور روزگار کے مواقع بڑھائے جا رہے ہیں، وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت لاکھوں نوجوان مستفید ہو رہے ہیں، نوجوانوں کیلئے آسان قرضوں اور زرعی فنانسنگ کے نئے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کیلئے پاکستان ایکسلریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، زرعی ذخیرہ گاہوں اور فوڈ سکیورٹی کیلئے خصوصی فنانسنگ سہولت متعارف کرائی جا رہی ہے، تجارت اور ٹیرف نظام کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا رہا ہے، برآمدات میں اضافے اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں۔آسام میں بھارتی فضائیہ کاطیارہ گرکرتباہ ،پائلٹ ہلاک

یہ بھی پڑھیں