اسلام آباد: قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی بجٹ 2026-27 پر بحث کا سلسلہ جاری رہا، جہاں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے بجٹ سمیت مختلف قومی اور معاشی امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
حکومتی رکن قومی اسمبلی جمال خان کاکڑ نے بجٹ کو موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جو ایک اہم کامیابی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے لیے مزید ترقیاتی فنڈز مختص کیے جائیں اور کوئٹہ میں پینے کے پانی کے دیرینہ مسئلے کو فوری حل کیا جائے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے بجٹ اور حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک کو مختلف معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی، گیس اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
شاہد خٹک نے بانی پی ٹی آئی سے متعلق بھی گفتگو کی اور ان کے لیے ذاتی معالج کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے دب چکا ہے اور کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی حسین طارق نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماضی میں مختلف سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، اس لیے کسی ایک جماعت کو شکایات کا حق نہیں۔ انہوں نے ایف بی آر کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹیکس وصولی کے اہداف اکثر پورے نہیں ہو پاتے، اس لیے ٹیکس کلیکشن کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح میں کمی آئی ہے، تاہم بجلی کے شعبے میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے بجٹ تجاویز، مہنگائی، توانائی بحران، ٹیکس نظام اور عوامی مسائل پر تفصیلی اظہار خیال کیا، جبکہ بجٹ پر بحث آئندہ اجلاسوں میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔

