Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

ٹیکس گوشوارے جرمانے بڑھانے کی تجویز، نادہندگان کیلئے سخت اقدامات

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے فنانس بل میں ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر عائد جرمانوں میں نمایاں اضافے کی تجویز دے دی ہے۔ نئے اقدامات کا مقصد ٹیکس نظام میں شفافیت لانا اور ٹیکس دہندگان کی جانب سے قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے۔

فنانس بل کے مطابق ٹیکس گوشوارے جرمانے اور ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ (ATL) میں دوبارہ شامل ہونے کی فیس میں کئی گنا اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ مجوزہ ترامیم کے تحت کمپنیوں کے لیے اے ٹی ایل میں بحالی کی فیس 20 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اسی طرح افراد کی بحالی فیس ایک ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے جبکہ ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لیے 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

فنانس بل میں آڈٹ کے دوران مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر جرمانوں میں بھی نمایاں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ غلط یا گمراہ کن معلومات فراہم کرنے پر جرمانہ 25 ہزار روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے تک کرنے کی سفارش سامنے آئی ہے۔

مزید برآں آمدن چھپانے یا غلط تفصیلات جمع کرانے پر جرمانہ ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ودہولڈنگ ٹیکس جمع نہ کرانے یا وصول نہ کرنے کی صورت میں بھی جرمانہ 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے تک ہو سکتا ہے۔

سیلز ٹیکس کے شعبے میں بھی تاخیر سے ریٹرن جمع کرانے پر جرمانے بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت مقررہ تاریخ کے بعد ریٹرن جمع کرانے پر 50 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر بھی اضافی جرمانہ وصول کیا جائے گا۔

حکومت نے مسلسل خلاف ورزی کرنے والے کاروباری اداروں کے خلاف مزید سخت اقدامات کی بھی تجویز دی ہے، جن میں کاروباری مراکز کو سیل کرنے جیسے اختیارات شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم چھوٹے کاروبار اور عام ٹیکس دہندگان پر مالی دباؤ بڑھنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ ٹیکس گوشوارے جرمانے بڑھانے کی تجویز پر کاروباری حلقوں اور ٹیکس ماہرین کی جانب سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں