Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

آئی ایم ایف سولر پینلز ٹیکس سے متعلق حکومت کی وضاحت سامنے آگئی

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے آئی ایم ایف سولر پینلز ٹیکس کے حوالے سے کسی بھی قسم کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔

ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ان خبروں کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ بجٹ سے قبل حکومت نے سولر پینلز پر سیلز ٹیکس لگانے پر غور کیا تھا۔ ان کے مطابق نہ تو اس معاملے پر آئی ایم ایف کی کوئی شرط تھی اور نہ ہی یہ حکومت کی زیر غور پالیسی کا حصہ تھا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات پر کام کر رہی ہے تاکہ بجلی کی قیمتوں میں کمی لائی جا سکے اور صنعتی شعبے کی مسابقت بہتر ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مہنگی بجلی ایک بڑا چیلنج ہے جس کا سامنا صنعت، آئی ٹی اور دیگر اہم شعبوں کو بھی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں کراس سبسڈی ختم کرنے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کی نجکاری جیسے اقدامات پر بھی پیش رفت کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے میں تین کمپنیوں کے لیے اظہارِ دلچسپی جاری کیا جا چکا ہے جبکہ مزید دو جلد سامنے آئیں گی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت پاور سیکٹر میں موجود غیر مؤثر نظام کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے اور آئندہ برسوں میں اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سنگل خریدار ماڈل کو ختم کر کے ایک مسابقتی مارکیٹ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد توانائی کے شعبے کو زیادہ شفاف، مؤثر اور سرمایہ کاری دوست بنانا ہے تاکہ معیشت کو طویل المدتی استحکام مل سکے۔

یہ بھی پڑھیں