اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں جمع کرا دی ہے۔
نیپرا اس درخواست پر 30 جون کو سماعت کرے گی، جس کے دوران پیش کیے گئے اعداد و شمار اور دلائل کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔ اگر درخواست منظور ہو جاتی ہے تو ملک بھر کے بجلی صارفین پر تقریباً 12 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
سی پی پی اے کی دستاویزات کے مطابق مئی 2026 کے دوران مجموعی طور پر 12 ارب 63 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی۔ اس عرصے میں فی یونٹ اوسط فیول لاگت 9 روپے 25 پیسے رہی، جبکہ ریفرنس فیول لاگت 8 روپے 43 پیسے فی یونٹ مقرر کی گئی تھی۔ اسی فرق کی بنیاد پر فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست دائر کی گئی ہے۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ مئی کے دوران بجلی کی پیداوار میں سب سے بڑا حصہ پن بجلی کا رہا، جو مجموعی پیداوار کا 33.27 فیصد تھا۔ اس کے علاوہ مقامی کوئلے سے 11.66 فیصد، درآمدی کوئلے سے 13.54 فیصد، مقامی گیس سے 8.31 فیصد جبکہ فرنس آئل سے صرف 0.16 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بجلی کی پیداواری لاگت میں تبدیلی کے مطابق کی جاتی ہے، تاہم اس کا براہ راست اثر صارفین کے ماہانہ بجلی کے بلوں پر پڑتا ہے۔
اب تمام نظریں نیپرا کی سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ منظور کیا جاتا ہے یا صارفین کو کسی حد تک ریلیف دیا جاتا ہے۔


