اسلام آباد: سونے کی قیمت عالمی مارکیٹ میں مسلسل دباؤ کا شکار ہے، جبکہ مالیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ سہ ماہی گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سونے کے لیے بدترین ثابت ہو سکتی ہے۔ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور شرح سود سے متعلق توقعات نے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ سونے سے ہٹا کر ڈالر کی جانب منتقل کر دی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار ہے۔ تازہ ترین کاروباری سیشن کے دوران فی اونس سونا نفسیاتی حد 4 ہزار ڈالر سے بھی نیچے آ گیا، جس سے عالمی سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
مالیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت تقریباً 1.8 فیصد کمی کے بعد 3,943 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سات ماہ کی کم ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی معیشت کی مضبوط کارکردگی اور شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات نے امریکی ڈالر کو مضبوط کیا ہے، جس کے باعث سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے لیے ڈالر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب شرح سود بلند ہو اور امریکی ڈالر مضبوط ہو تو سونے کی قیمت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، کیونکہ ایسے حالات میں سونے میں سرمایہ کاری نسبتاً کم منافع بخش سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آئندہ چند روز میں امریکا کے روزگار سے متعلق اعداد و شمار اور امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسی سے متعلق اعلانات سونے کی عالمی قیمتوں کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اگر امریکی ڈالر مزید مضبوط ہوتا ہے تو سونے کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔



