لاہور ٹیوشن سینٹر چھت گرنے کا واقعہ پنجاب کے دارالحکومت میں ایک بڑے سانحے کی صورت اختیار کر گیا، جہاں کاہنہ کے علاقے میں ایک رہائشی مکان میں قائم ٹیوشن سینٹر کی چھت اچانک گرنے سے کم از کم 14 بچے جاں بحق جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت تقریباً 35 بچے ٹیوشن سینٹر میں موجود تھے۔ اچانک ٹی آر گرڈر سے بنی چھت زمین بوس ہوگئی جس کے نتیجے میں بچے ملبے تلے دب گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122، پولیس اور دیگر امدادی ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق اب تک کئی بچوں کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے، تاہم متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ امدادی کارکن ملبے میں دبے دیگر بچوں کی تلاش میں مصروف ہیں جبکہ مقامی شہری بھی امدادی کارروائیوں میں بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق مکان کی چھت پر مٹی کی بھاری تہہ موجود تھی، جس کی وجہ سے چھت گرنے کے بعد ملبہ زیادہ ہو گیا اور امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں۔ زخمی بچوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے افسوسناک حادثے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ انہوں نے صوبائی وزرا اور ضلعی انتظامیہ کو جائے حادثہ پہنچ کر امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کا بھی حکم دیا۔
لاہور ٹیوشن سینٹر چھت گرنے کا واقعہ نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر تعمیراتی غفلت یا حفاظتی انتظامات میں کوتاہی سامنے آئے تو ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد واقعے کی وجوہات کا تفصیلی تعین کیا جائے گا۔



