کراچی: گزشتہ ماہ کے دوران کراچی کے مختلف تھانوں میں تعینات کم از کم چھ اسٹیشن ہاؤس آفیسرز (ایس ایچ اوز) کو ان کے اپنے دائرہ اختیار میں جرائم میں اضافے پر معطل کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اپنے اپنے دائرہ اختیار میں امن و امان کی خرابی پر معطل کیے گئے پولیس افسران میں ایس ایچ او شاہراہ فیصل راجہ طارق، ایس ایچ او بلال کالونی شہزادہ سلیم، ایس ایچ او کورنگی انڈسٹریل ایریا فراز اور ایس ایچ او سرجانی ٹاؤن راؤ ناظم شامل ہیں۔
ایس ایچ او زمان ٹاؤن راؤ رفیق کو ڈکیتی کی واردات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر معطل کر دیا گیا ہے۔ ایس ایچ او اورنگی ٹاؤن رضوان پٹیل کو بھی ناقص کارکردگی پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
پنجاب، محکمہ صحت کے 5 معطل ملازمین بحال کر دئیے گئے
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2024 میں اب تک کراچی کے کم از کم 46 شہری ڈکیتیوں کے خلاف مزاحمت پر قتل ہوچکے ہیں، فروری میں سب سے زیادہ 20 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔
ماہانہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ فروری میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں جن میں 20 شہریوں نے ڈاکوؤں کے ہاتھوں اپنی جانیں گنوائیں۔
جنوری میں 13 افراد کو ڈاکوؤں نے قتل کیا تھا جبکہ مارچ میں اب تک 13 کے قریب شہری ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہیں۔
تازہ ترین افسوسناک واقعہ میں بندرگاہی شہر میں ڈکیتی مزاحمت پر مسلح ڈاکوؤں نے ایک اور نوجوان کو قتل کر دیا۔
یہ واقعہ راشد منہاس روڈ پر اس وقت پیش آیا جب مسلح ڈاکوؤں نے سید رہبر کے نام سے ایک شخص کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ واقعے کے بعد شہریوں نے ڈاکو کو پکڑ کر مارا پیٹا جب ڈاکو نے فرار ہونے کی کوشش کی۔
علاوہ ازیں وزیر داخلہ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او شاہراہ فیصل کو معطل کرنے کا حکم دے دیا۔


